ابنا: واضح رہے کہ یورینیئم کی افزدوگي کو ایٹم بم کی تیاری کے مترادف قرار دینا ایک سیاسی اقدام ہے جس کا مقصد راۓ عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔ یوکیا آمانو نے اس سے پہلے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام میں فوجی مقاصد کی جانب انحراف پاۓ جانے سے متعلق بعض دعووں اور ان غلط اطلاعات کا ذکر کیا تھا جن کی بنیاد پر یہ دعوے کۓ گۓ تھے اور تہران میں ایرانی ماہرین نے ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو فنی وضاحتیں پیش کی تھیں جن سے ثابت ہوگيا کہ یہ دعوی بے بنیاد تھا۔
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے میں ایران کے مستقل نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے اس نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات پر ایران کی آمادگي کا اظہار کیا ہے۔ اور وضاحت کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک ذمےدار اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے قوانین کا پابند ہونے ملک کے ناتے اس ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ علی اصغر سلطانیہ نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال پر مبنی اپنے ناقابل تردید حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اب تک کم از کم ستائیس رپورٹوں میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں فوجی مقاصد کی جانب انحراف نہ پاۓ جانے کی تصدیق کرچکی ہے۔ لاس اینجلس ٹائمز نے بھی جمعرات کے دن شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات کی بنیاد پر لکھا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت ایٹمی ہتھیار تیار کررہا ہے یا ان کو تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی شفافیت اور اس کے ساتھ ساتھ پرامن مقاصد کے لۓ اپنی ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی تاکید پر مبنی ہے۔ اور اسی تناظر میں ایران ماضی میں بعض ابہامات کے بارے میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سوالات کے جواب دے چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں۔ اور یہ جو ایران اس ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے تو یہ ایک اہم نکتہ ہے جس سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں بعض ممالک کے دعووں کا کھوکھلا ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکیا آمانو کی غیر معتبر رپورٹ کو بہانہ کر ایران میں یورینیئم کی افزودگی روکنے پر امریکہ اور یورپی یونین کا اصرار ایک غیر منطقی مطالبہ اور ایٹمی توانائی سے متعلق ممالک کے حقوق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ درحقیقت یہ مطالبہ این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی اور ایک غیر معقول بدعت ہے جس کا مقصد ایٹمی ٹیکنالوجی پر چند تسلط پسند ممالک کی اجارہ داری اور دوسرے ممالک پر ان کی سیاسی پالیسیوں کو مسلط کرنا ہے۔......... /169