24 فروری 2012 - 20:30

ايران اور یورپی ممالک کے درميان اقتصادی اور تجارتی کشيدگي کي وجہ سے عالمي منڈي ميں خام تيل کي قيمت مسلسل بڑھتي جارہي ہے جس کے نتيجے ميں عالمي معاشي صورتحال مزيد ابتر ہونے کا خدشہ ہے اورایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک خود اقتصادی بحران کا شکارہوگئے ہیں۔

ابنا: ہفتے کے آخري روز لندن کي مارکيٹ ميں خام تيل کي قيمت ايک ڈالر 85 سينٹس اضافے کے بعد 125 ڈالر في بيرل سے اوپر چلي گئي. اپريل کے بعد سے يہ في بيرل تيل کي سب سے زيادہ قيمت ہے. ہفتے کے دوران برينٹ کروڈ آئل کي قيمت مجموعي طورپر 5 ڈالر 89 سينٹس بڑھي ہے.

قيمت ميں اضافے نے ان پريشانيوں کو بھي بڑھا ديا ہے کہ صارفين کي طرف سے طلب ميں کمي عالمي شرح نمو کو بھي متاثر کرے گي. اس سے قبل یورپی ممالک نے ایران کے تیل کی خرید پر جولائي میں پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ایران نے یورپی ممالک کے غیر منصفانہ اقدام کے خلاف جوابی  کارروائی کرتے ہوئے یورپی ممالک کو تیل کی فروخت ابھی سے بند کردی ہے اور ایران نے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی فروخت متوقف کردی ہے جس کی وجہ سے یورپی اور مغربی ممالک میں شدید اقتصادی بحران پیدا ہوگیا ہے اور ایران کو اقتصادی محاصرہ کرنے والے خود اقتصادی محاصرے میں آگئے ہیں۔ .........

/169