ابنا: بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ قدس میں ایک اسکول بس کے حادثے کے نتیجے میں دس فلسطینی بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد فیس بک پر اس بات پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوۓ کہ مارے جانے والے تمام بچے فلسطینی تھے لکھا ہے کہ تمام عربوں کی موت ان کی آرزو ہے۔ جب سے ناجائز صہیونی ریاست وجود میں آئي ہے اس وقت سے اس حکومت کے عہدیدار بارہا نسل پرستانہ بیانات دے چکے ہیں اور نسل پرستانہ اقدامات کرچکے ہیں۔ اب اس میں کوئي شک باقی نہیں رہ گیا ہے کہ عالمی برادری کو جنوبی افریقہ کی سابق نسل پرست حکومت سے بھی زیادہ بری حکومت کا سامنا ہے۔
صہیونی حکام کے نسل پرستانہ بیانات کے پیش نظر عالمی سطح پر اس حکومت کے مذموم مقاصد کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صہیونی ریاست اپنی مجرمانہ پالیسی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوۓ فلسطینیوں کی نسل کا خاتمہ کرنے کے درپے ہے۔ اور اس پالیسی پر وہ مختلف طریقوں سے عمل پیرا ہے۔
فلسطینی عوام کو کچلنا اورفلسطینیوں کو تدریجا موت کے گھاٹ اتارنے کے مقصد سے فلسطینی علاقوں کے ارد گرد نسل پرستانہ دیوار کی تعمیر کے ذریعے ان کے محاصرے کا سلسلہ جاری رکھنا صہیونی ریاست کے بعض نسل پرستانہ اور غیر انسانی اقدامات ہیں۔
صہیونی ریاست کے اقدامات کی وجہ سے فلسطینیوں کے لۓ المناک مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں عالمی برادری خصوصا عالمی تنظیموں کی جانب سے صہیونی ریاست کے خلاف ٹھوس اقدامات انجام دینے کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لۓ جانے کی وجہ سے صہیونی ریاست فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کے سلسلے مزید جری ہوگئي ہے۔
عرب لیگ نے صہیونی ریاست کے نسل پرستانہ مواقف کے خلاف ایسی حالت میں ایک کمزور سا موقف اختیار کیا ہے کہ جب عالمی اور علاقائی تنظیموں سے دنیا والوں کا مطالبہ یہ ہےکہ اس نسل پرست حکومت کے خلاف سخت اقدام کیا جاۓ۔
عالمی اور علاقائي تنظیموں کی جانب سے صہیونی ریاست کے خلاف کمزور موقف اختیار کۓ جانے کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ برآمد نہیں ہوا ہے کہ صہیونی ریاست نے اپنے نسل پرستانہ اقدامات میں مزید شدت پیدا کی ہے۔
فلسطینیوں کے خلاف صہیونی وزیر اعظم کے حالیہ غیر انسانی بیانات سے بھی اسی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔........ /169