ابنا: ایس یو سی صوبہ پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی اور اراکین کابینہ مولانا آغا عظمت علی، چوہدری فدا حسین گھلوی، سید ثناء الحق ترمذی، ایم ایچ بخاری، سید اظہار نقوی، مہر قیصر عباس، فضل عباس جنجوعہ اور دیگر نے گذشتہ روز پارا چنار میں نہتے شیعہ شہریوں پر نماز جمعہ کے بعد خودکش حملے کی شکل میں ہونے والے دہشتگردی کے المناک واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے اور اسے دہشتگردوں اور خفیہ قوتوں کے گٹھ جوڑ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
اپنے مذمتی اور احتجاجی بیان میں علامہ سید عبدالجلیل نقوی اور ان کی کابینہ نے کہا کہ گذشتہ تین ماہ میں کالعدم تنظیموں، فرقہ پرست گروہوں اور دہشتگردی کے بانی عناصر کے درمیان واضح اتحاد ہمارے سامنے متحرک ہے اور کھلے عام دہشتگردی کرنے کے اعلانات بھی باقاعدہ ریکارڈ اور شائع ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف دہشتگردوں اور خفیہ قوتوں کے لیے کام کرنے والے تمام عناصر کے باہمی اتحاد سے شیعہ مکتب فکر کو اس لئے دور رکھا گیا ہے تاکہ وہ شیعہ عوام کا قتل عام تیز کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جونہی ملکی اور بین الاقوامی حالات نے نیا رخ اختیار کرنے کی طرف کروٹ لی ہے تو شیعہ عوام کو قربانی کا بکرا بنائے جانے کی مشق دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ پاراچنار میں خودکش حملہ اور پھر سکیورٹی فروسز کی طرف سے مظلوم مثاترین پر سیدھی فائرنگ کرنا، اسی پالیسی کی عملی شکل ہے۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماؤں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں جب شیعہ عوام خودکش حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کی دہشتگردیوں کی زد میں آ جائیں تو اسے کیا سمجھا جائے گا؟ اب یہ سوال ملک کے ہر شہری کے ذہن میں آچکا ہے کہ حکمران اور ریاستی ادارے ایک طرف دہشتگردی کو ملکی سالمیت کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہیں، دوسری طرف دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی، پشت پناہی اور سرپرستی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، بلکہ کالعدم ہونے کے باوجود انہیں ملک کی مین سیاسی سٹریم میں لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ اس کے پس پشت کیا عزائم کارفرما ہیں؟؟؟ ملک کے شیعہ عوام اب اس بات یقین ہو چلا ہے کہ انہیں چاروں اطراف سے دشمنوں کا سامنا ہے اس لئے انہیں انتہائی مہارت اور حکمت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ علامہ سید عبدالجلیل نقوی اور دیگر اراکین کابینہ نے کہا کہ ان تمام حقائق کے باوجود ہم اب بھی ریاستی اداروں اور ملک کی اعلٰی عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دہشتگردوں کے نئے اتحادوں اور ان سے ملنے والی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات بالخصوص سانحہ پارا چنار کے حوالے سے فوری نوٹس لے، میمو اسکینڈل سے لے کر صدارتی استثناء تک کی مصروفیات کے مقابلے میں انسانی خون کے بہنے کی آواز بھی سنے اور ملک کو سیاسی دہشتگردی کے ساتھ ساتھ ریاستی اور فرقہ وارانہ دہشتگردی سے نجات دلانے کے لیے بھی اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
.......
/169-110