ابنا: امریکہ شام کے خلاف جاسوسی کے اقدامات میں شدت پیدا کر کے اس ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش کررہا ہے۔ امریکہ نے یہ ثابت کردیا ہےکہ وہ ممالک کے خلاف اپنے مخاصمانہ اقدامات اور سازشوں کے سلسلے میں کسی حد کا قائل نہیں ہے۔ اور وہ اسی تناظر میں ممالک کے اقتدار اعلی کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کرتا ہے اور اس سلسلے میں امریکہ کے جارحانہ اقدامات سے شام کی فضائی حدود بھی محفوظ نہیں رہی ہیں۔
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ کے جاسوس طیاروں نے وسیع پیمانے پر شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ مشرق وسطی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ شام کی فضائي حدود میں امریکہ کے بغیر پائلٹ کے طیاروں کی پرواز کا مقصد اس ملک میں مزید بدامنی پیدا کرنا ہے۔ مشرق وسطی کے امور کے ماہر ہشام جابر نے شام کی فضائی حدود میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازوں کے سلسلے میں امریکی حکام کے اعتراف کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا ہےکہ اس طرح کے اقدامات شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہیں۔
ہشام جابر نے تاکید کی ہے کہ امریکہ بغیر پائلٹ کے طیاروں کو شام میں بدامنی پھیلانے والوں کی امداد کے لۓ استعمال کررہا ہے۔ شام میں بدامنی کا آغاز مارچ سنہ دو ہزار گیارہ میں ہوا تھا اور دہشتگرد گروہ بعض عرب اور یورپی حکومتوں کی حمایت کے ساتھ شام کی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لۓ اس بدامنی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شام میں مسلح عناصر کے حملوں میں اب تک اس ملک کی سیکورٹی فورسز کے سیکڑوں اہلکار اور عوام جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب تازہ ترین رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ شام میں بدامنی کے واقعات میں ملوث ہے۔ اس سلسلے میں شام میں تعینات امریکی سفیر رابرٹ فورڈ نے شام کی قومی کونسل نامی گروہ کے اراکین سے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ملاقات کی ہے۔ اور اس کونسل سے کہا ہے کہ وہ شام کے اقتصاد کو تباہ کرنےاور بنیادی تنصیبات کو نقصان پہنچانےکے مقصد سے اس ملک میں مسلح گروہوں کے ساتھ تعاون کریں۔
رابرٹ فورڈ نے دعوی کیا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ شام کی قومی کونسل کا تعاون ہی اس ملک کی حکومت کی سرنگونی کاواحد راستہ ہے۔ امریکہ شام کے مسلح گروہوں کی اسلحہ جاتی اور سیاسی امداد کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی ان کی حمایت کرتا ہے اس سلسلے میں امریکہ کا ٹی وی چینل سی این این شام میں مسلح گروہوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ شام سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں امریکہ کی مہم جوئي اور مداخلت پر مبنی اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ کی جنگ پسندی علاقائی اور عالمی امن کے لۓ ایک نیا خطرہ ہے اور عالمی برادری کو امریکہ کی خطرناک کارروائيوں کے مقابلے کے لۓ ٹھوس اقدام کرنا ہوگا۔
.........
/169