14 فروری 2012 - 20:30

تيونس کي آئين ساز اسمبلي نے منگل چودہ فروري سے آئين کي تياري کا کام شروع کرديا -

ابنا: تيونس ميں بنيادي آئين کے مسودے کي تدوين کے مراحل آئين ساز اسمبلي کے  چھے  کميشنوں کے قيام سے شروع ہوئے ہيں جن ميں سے ہر ايک کميشن تيونس کے نئے بنيادي آئين کے الگ الگ حصوں کا جائزہ لے گا

بنيادي آئين کا مسودہ وزيراعظم حمادي جبالي کي طرف سے صدارتي اليکشن کے لئے  دي گئي مہلت کے اندر يعني اٹھارہ مہينے  ميں تيار ہوجانا ہے تاکہ اس پر عوامي ريفرنڈم کرايا جاسکے -

تيونس ميں نئے بنيادي آئين کے مسودے کي تياري کا کام ايک ايسے وقت شروع ہواہے جب  مختلف سياسي جماعتوں کے درميان اس سلسلے ميں اختلاف رائے  پايا جارہا ہے -  ايک ايسے وقت ميں جب تيرہ فروري کو تيونس کے عوام کي تحريک کي کاميابي کي پہلي سالگرہ منائي گئي ملک ميں بعض سياسي اقتصادي اور سيکورٹي مسائل تيونس کے انقلاب کے مستقبل کو خطرے سے دوچار کررہے ہيں - اس وقت تيونس ميں بعض سياسي گروہوں کے درميان ہونے والي لڑائيوں نے اس انديشے کو جنم ديا ہے کہ سابق حکومت کے عناصر دوبارہ اقتدار ميں لوٹ سکتے ہيں  - اس وقت تيونس ميں سيکورٹي کے فقدان کے پيش نظر انقلابيوں  ميں تشويش پائي جارہي ہے کہ ان کا انقلاب کہيں راستے سے  منحرف نہ ہوجائے -

   فوجي جرنيلوں پر عوام کا اعتماد ختم ہوجانے اور ملک کے دفاعي اور سياسي ميدانوں ميں فوج کے کردار کے بارے ميں ابہام کي وجہ سے  ملک کي سلامتي کو بھي خطرات درپيش ہيں - اگرچہ تيونس ميں آئين ساز اسمبلي کے انتخابات ہوچکے ہيں اور عبوري حکومت بھي برسراقتدار آچکي ہے اس کے بعد بھي ملک کے نئے سسٹم ميں فوج کا کيا کردار ہے يہ ابھي تک واضح نہيں ہوسکا ہے -

   تيونس ميں اسلامي بيداري کي تحريک کي کاميابي کے بعد پيدا ہونے والي آزاد سياسي فضا نے ملک ميں بہت سي سياسي جماعتوں کے وجود ميں آنے کا موقع فراہم کرديا ہے اور مبصرين کا کہنا ہے کہ اب ملک کي تقدير کا فيصلہ عوام کے ہي ہاتھوں ہوا کرے گا - چنانچہ بن علي کے دور حکومت ميں جہاں صرف چھ سياسي جماعتيں ہي ملک ميں پائي جاتي تھيں اب ان کي تعداد بڑھ کر اکياون ہوگئي ہے -

دوسري طرف  تيونس کي نئي حکومت ميں شراکت داري نبھانے کے لئے سياسي جماعتوں کے درميان رسہ کشي پارليمنٹ کے اندر بڑي مشکل بن کر ابھري ہے اور اس بات کا امکان پايا جاتا ہے کہ سياسي جماعتوں کا اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے- دريں اثناء اقتصادي بدحالي اور عوام کي معاشي پريشانياں بھي ايک ايسي سنگين مشکل ہے جو موجودہ عبوري حکومت کے گريباں گيرہے. .....

/169