5 فروری 2012 - 20:30

جرمنی کے ایک سیاستداں نے مشرق وسطی کے بحران میں شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام امریکہ اور یورپ کے فائدے میں نہیں ہے۔

ابنا:  جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب سربراہ گرنوٹ ارر  نے جرمن پارلیمنٹ میں  اخبار تاگس اشپیگل کے ساتھ گفتگو میں مونیخ میں امن کانفرنس میں اسرائيل کی طرف سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئےکہا ہے کہ مجھے علاقہ کے شرائط پر سخت تشویش لاحق ہے اور امید ہے کہ مونیخ کانفرنس ، مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرےگی۔ اس نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی نہ امریکہ کے فائدے میں ہے اور نہ یورپ کے فائدے میں ہے  اور امید ہے کہ امریکہ  اسرائيل کے ساتھ اپنے گہرے روابط سے استفادہ کرتے ہوئےباز رکھنے کی کوشش کرےگا۔

ایران کے خلاف اسرائيل کے فوجی حملے کی صورت میں جرمنی کی اسرائيل کی حمایت میں  وارد ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جاوب دیتے ہوئے اس نے کہا کہ جرمنی کی اس سلسلے میں کوئي ذمہ داری نہیں ہے اور جرمن اس جنگ میں شرکت نہیں کرےگا۔ اس نے کہا کہ جرمنی کا علاقہ میں اثر و روسوخ ہے اور جرمنی اپنی سفارتکاری کو مزيد فعال کرسکتا ہے۔........ /169