ابنا: لاؤروف نے تاکید کےساتھ کہا ہےکہ امریکہ کا یہ اقدام آئی ایم ایف کےمنشورکی خلاف ورزی ہے کیونکہ آئی ایم ایف نےتمام رکن ممالک کو تجارتی اوراقتصادی معاہدوں کےلئے بینک سروس فراہم کرنےکی ضمانت دی ہے۔
لاؤروف نے روس کےٹی وی چينل چوبیس کوانٹرویودیتےہوئےامریکہ کی اس پالیسی پرتنقید کرتےہوئےایران کےتیل پرپابندی کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہاکہ یورپی یونین کےبہت سےممالک ایران کےتیل سےوابستہ ہیں جبکہ یورپی آئیل ریفائنریاں ایرانی خام تیل کےمطابق لگائی گئ ہيں اور ان ریفائنریوں کوتبدیل کرنےکےلئے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جن کی یہ ممالک توانائی نہيں رکھتے۔
بین الاقوامی قوانین کےمطابق دوطرح کی پابندیاں وضع کی جاتی ہیں، یکطرفہ پابندیاں اورکثیرالجھت پابندیاں ۔ کثيرالجہت پابندیاں بعض بین الاقوامی کنونشنوں میں مدنظررکھی گئی ہیں اوروہ اس وقت عائد کی جاتی ہیں جب کوئی رکن ملک معاہدےکی خلاف ورزي کرتا ہے تودوسرےرکن ممالک اس کابائیکاٹ کرتے ہيں لیکن کسی حکومت کی جانب سےیکطرفہ پابندی، حکومتوں کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کےتناظرمیں ہی لگائی جاسکتی ہیں ۔ اس بنا پر اس طرح کی پابندی اپنی سرزمین سےباہرکےممالک پرعائد نہيں ہوتی اور اسےبین الاقوامی قوانین کےخلاف بھی نہيں ہوناچاہئے۔
امریکی صدرباراک اوبامہ نے سن دوہزارگیارہ کےآخری دنوں میں ایران کےسینٹرل بینک پرپابندی کےقانون پردستخط کیا جس کی بنیاد پر ایران کےساتھ لین دین کرنےوالی غیرملکی کمپنیاں اوربینکوں کوسزا اورپابندی کاسامناکرناپڑےگا۔ اس سےقبل امریکہ ایران کی بعض شخصیتوں پربھی پابندیاں عائدکرچکاہے۔
امریکہ کایہ اقدام بین الاقوامی قوانین کےخلاف ہے اورچونکہ اقوام متحدہ اور آئی ایم ایف جیسے دوسرے بین الاقوامی اداروں کادفترامریکہ میں واقع ہے اس لئے عالمی کنونشن کےمطابق اس کایہ اقدام خلاف قانون ہے جبکہ امریکہ ایران میں عدم مداخلت کےمعاہدے کابھی پابند ہے۔امریکہ،انیس سوپچپن میں اسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ مودت کےمعاہدے میں طرفین کےشہریوں کےدرمیان آزادی تجارت اور دریانوردی کاپابند ہے اوراسی طرح الجزائرمعاہدے کی پہلی شق میں امریکہ ، ایران میں باالواسطہ یابراہ راست مداخلت نہ کرنےکاپابند ہے۔
امریکہ ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کےحصول کی کوشش کاالزام لگاتا ہے اورپابندیوں اورفوجی دھمکی کےساتھ ہی ایرانی سائنسدانوں کوقتل کرنے اور ایران کےحساس علاقوں پرسائبرحملے کرکے ایران کی سائنسی ترقی کو روکنےکی کوشش کررہا ہے۔
اسی حقیقت کےپیش نظر روس کےوزيرخارجہ سرگئي لاؤروف نے کہاہے کہ امریکہ،ایران میں قانونی اداروں اور افراد کونشانہ بنارہا ہے تاکہ ایران کی معیشت کونقصان پہنچاسکے، لاؤروف نےساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ روس اس طرح کاقدم نہيں اٹھائےگا۔
یہ واضح تنقید ایسےعالم میں سامنےآئی ہے کہ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان آئندہ مذاکرات تیئس مئی کوبغداد میں ہوں گے تاکہ طرفین کی جانب سے ایٹمی تعاون پرعمل درآمد کےسلسلےمیں اسٹریٹیجک حکمت عملی تیارکی جاسکے۔
ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان حالیہ مذاکرات چودہ اپریل کواستنبول میں ہوئےتھے جس پرطرفین نےاطمینان کااظہارکیا تھااورمثبت قراردیاتھا لیکن یہ مذاکرات ان پابندیوں اورغیرمنطقی پالیسیوں کےخاتمے پرمنتج ہونےچاہئے جو امریکہ نے بین الاقوامی قوانین اور کنونشنوں کی خلاف ورزی کرتےہوئے ایران کےخلاف دوسرےملکوں پرعائد کررکھی ہیں۔ .......
/169