3 فروری 2012 - 20:30

مصر ميں پورٹ سعيد ميں تشدد کے خلاف اور فوجي حکومت کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ مظاہرہ کرنے والوں اور پوليس کے درميان جھڑپوں ميں ہلاکتوں کي تعداد پانچ ہو گئ ہے - ان جھڑپوں ميں ہزاروں لوگ زخمي بھي ہوئے ہيں -

ابنا:  العالم کے مطابق تين لوگ سوئز ميں اور مظاہرہ کرنے والا ايک شخص اور ايک پوليس اہل کار قاہرہ ميں ہلاک ہوا - در ايں اثنا مصري ٹي وي نے بتايا ہے کہ وزارت داخلہ کے سامنے واقع انکم ٹيکس کے ہيڈکوارٹر کي عمارت پر مظاہرين کے حملے کے بعد اس ميں آگ لگ گئ ہے-

در ايں اثنا اعلي فوجي کونسل کے خلاف قاہرہ کي سڑکوں پر وسيع مظاہرے ہوئے اور مظاہرين نے کونسل کي برطرفي نيز صدارتي انتخابات کے ذريعے عوامي جمہوري حکومت قائم کئے جانے کا مطالبہ کيا - رپورٹوں کےمطابق پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپوں ميں مظاہرين نے سنگ باري کي جبکہ پوليس نے مظاہرين کے خلاف آنسو گيس کے گولے استعمال کئے -

مظاہرين کے ہاتھوں ميں احتجاجي نعروں کے پلے کارڈ اورشہيدوں کي تصويريں تھيں - ادھر مشرقي قاہرہ ميں ايک پوليس اسٹيشن پر نا معلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے زير حراست تمام لوگوں کو رہا کرا ليا - خبروں کے مطابق مسلح افراد نے پوليس اسٹيشن کو آگ بھي لگا دي تاہم ابھي تک کسي جاني نقصان کي خبر نہيں ہے - اس پوليس اسٹيشن ميں ان لوگوں کو رکھا گيا تھا جن کو فٹبال ميچ کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے دوران حراست ميں ليا گيا تھا .......

/169