اہل البیب نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے شمالی شہر پورٹ سعید میں واقع اسٹیڈیم میں پورٹ سعید کی مقامی ٹیم "المصری" اور قاہرہ کی ٹیم "الاہلی" کے درمیان فٹ بال میچ ہورہا تھا جس میں میزبان ٹیم تین بمقابلہ ایک گول سے جیت گئی لیکن میچ کے فورا بعد مقامی ٹیم کے حامیوں نے گراؤنڈ پر حملہ کیا اور جھڑپیں شروع ہوگئیں اور انھوں نے قاہرہ کی ٹیم کے کھلاڑیوں اور ٹیکنیکل کیڈر کا تعاقب کیا۔ عجیب یہ ہے کہ جیتنے والی ٹیم کے حامیوں نے جھڑپوں کا آغاز کیا ہے۔مصر کے وزیر صحت "ہشام الشیخہ" نے ٹیلی ویژن کے اسکرین پر ظاہر ہوکر کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 40 سے تجاوز کرگئی ہے۔الاہلی ٹیم نیز مصر کی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی محمد ابو تریکہ نے کہا: یہ فٹ میچ نہ تھا بلکہ ایک جنگ تھی لوگ اسٹیڈیم میں مارے جارہے تھے اور نہ تو طبی امداد کا کوئی انتظام تھا اور نہ ہی سیکورٹی فورسز کا اتہ پتہ تھا جو عوام کی مدد کو پہنچتیں۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے اپنی ٹیم کے کھلاڑی کو جان دیتے ہوئے دیکھا۔ مصر کے ٹیلی ویژن پروگراموں میں الاہلی ٹیم کے افراد پر المصری ٹیم کے حامیوں کے حملے دکھائے جارہے ہیں اور الاہلی ٹیم کی ویب سائٹ نے اپنی ایک خبر میں کہا ہے کہ اس ٹیم کے کئی کھلاڑی زخمی ہوگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ حسنی مبارک کے زوال کو ایک سال ہونے کو ہے اور فوجی کونسل بدستور اقتدار پر قابض ہے جس کو عوامی مزاحمت سامنا ہے۔اپڈیٹہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 74 تک پہنچ گئی ہے اور ادھر مصر کی اسپورٹس کی وزارت نے مصر میں آنے والے دنوں میں ہونے والے تمام مقابلوں کو منسوخ کردیا ہے اور الاہلی ٹیم کے دو اہم کھلاڑیوں محمد ابو تریکہ اور محمد برکات نے فٹ بال کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ محمد ابو تریکہ جو مصر کے "مسٹر گول" (Mr. Gallic) بھی ہیں، نے کہا کہ وہ اپنے دوست کھلاڑی کے قتل سے پہنچے ہوئے صدمے کی وجہ سے فٹ بال کو ہمیشہ کے لئے ترک کرچکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق الاہلی ٹیم کے کو کھلاڑیوں اور منتظمین و فنی کیڈرز کو ایک فوجی طیارے میں قاہرہ منتقل کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ پورٹ سعید کے اسٹیڈیم میں لڑی جانی والی لڑائی کھیل اور تفریح کی حدود سے خارج ہے اور اس حادثے کے عوامل اور اسباب کے بارے میں کچھ بھی کہنا ممکن نہيں ہے۔
اخوان المسلمین نے پورٹ سعید کے حادثے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک معمولی حادثہ نہیں ہے اور عوام کے قتل عام میں سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے باقیات ملوث ہیں۔







۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110