23 جنوری 2012 - 20:30

نيويارک…اقوام متحدہ کے انساني حقوق کي کميشن کے سربراہ ناوي فيلے نے امريکي حکومت کي جانب سے گوانتانامو بے کيوبا ميں اپنا حراستي مرکز بند کرنے ميں ناکامي پر اپني شديد مايوسي کا اظہار کيا ہے جس کي بندش کا وعدہ صدر براک اوباما نے تين سال قبل اپنے عہدہ سنبھالتے وقت کيا تھا.

انبا: اپنے ايک بيان ميں انہوں نے کہا ہے کہ حراستي مرکز قائم ہوئے 10سال ہوچکے ہيں اور صدر اوبابا کے اس وعدے کو بھي تين سال گذر چکے ہيں کہ يہ قيدخانہ 12 ماہ کے اندر بند کرديا جائے گا.انساني حقوق کمشن کي سربراہ نے يہ کہا کہ فوجي حراستي مرکز ميں بند اکثر قيديوں کا غير معينہ مدت تک حراست ميں رہنے کا امکان ہے.

انہوں نے ان حراستوں کو بين الاقوامي قوانين کي کھلي خلاف ورزدي قرار ديا.فيلے نے کہا کہ وہ انہيں اس پر بھي بدستور تشويش ہے کہ حکومت نے انساني حقوق کے معائنہ کاروں کوگوانتانا مو کے حراستي مرکز ميں قيديوں کي صورت حال کے معائنے کي اجازت نہيں دي.

سابق امريکي صدر جارج ڈبليو بشن نے 11 ستمبر 2001 کو امريکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان ميں القاعدہ کے عسکريت پسندوں کے خلاف لڑائي کيلئے امريکي قيادت ميں افواج بھيجنے کے بعد کيوبا ميں امريکہ کے بحري فوجي مرکز ميں ايک حراستي مرکز قائم کيا تھا. .........

/169