ابنا: حسين دانائي فر نے کہا ہے کہ اشرف چھاؤني ميں اقوام متحدہ کے نمائندے اور ايم کے او کے ارکان کے درميان ہونے والي ملاقات ميں اس گروہ کے اکثر ارکان نے ايران لوٹنے کے ليے اپني تياري کا اعلان کيا ہے تاہم ايم کے او کے دہشتگرد سرغنہ انہيں اس چھاؤني سے باہر نکلنے کي اجازت نہيں دے رہے ہيں اور انہوں نے ان افراد کو يرغمال بنا رکھا ہے-
عراق ميں ايران کے سفير نے کہا کہ ايران کي حکومت اور نظام کي جانب سے ايم کے او کے ارکان کو ملک ميں قبول کيے جانے کے فيصلے ميں اس دہشتگرد گروپ کے سرغنہ شامل نہيں ہيں اور يہ معافي صرف ان افراد کے ليے ہوگي جن کے ہاتھ ايراني عوام کے خون سے رنگے نہيں ہوں گے- دانائي فر نے امريکي حکام کي جانب سے ايم کے او کي حمايت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دہشتگرد گروہ کو گزشتہ کئي سال سے امريکا اور اس کے مغربي پٹھوؤں کي حمايت حاصل رہي ہے تاہم دلچسپ بات يہ ہے کہ اس وقت امريکا اس گروہ کے ايک رکن کو بھي پناہ دينے پر تيار نہيں ہے۔........
/169