10 جنوری 2012 - 20:30

موریتانیہ کےدورےکےموقع پرامیرقطرشیخ حمد بن آل ثانی کےمداخلت پسندانہ بیان پراس ملک کےحکام مشتعل ہوگئے اور انھیں سرکاری سی آف کےبغیر ہی موریتانیہ سے واپس پلٹناپڑا۔

ابنا: امیرقطر نےموریتانیہ کےصدرمحمدولد عبدالعزیز سےملاقات میں حکومت کےمخالفین کوآزادی ديئےجانےاورڈیموکریٹک اصلاحات نیز مخالفین سےمصالحت کرنےپرتاکیدکی تھی ۔ امیرقطر کی کوششوں کوموریتانیہ کےامور میں مداخلت سےتعبیرکیاگیااوراس پرموریتانیہ کےحکام مشتعل ہوگئے۔

موریتانیہ سےامیرقطر کونکالاجاناچندپہلوؤں سےقابل غورہے۔گذشتہ دنوں سے نہایت تھوڑی سی آبادی والےچھوٹےسےملک قطر کی جانب سےاقتدار کا مظاہرہ سیاسی حلقوں کی حیرت کاباعث ہوا ہے ۔

بعض ناظرین علاقےمیں قطرکی حیرت انگیزموجودگی کواس کےمضبوط اقتصاد اورامریکہ سےاس کی وابستگی کانتیجہ سمجھتےہيں۔ قطرکےدارالحکومت دوحہ میں امریکہ کےمتعدد فوجی اڈےواشنگٹن کےساتھ دوحہ کے گہرےتعلقات کی عکاسی کرتےہیں۔ امریکی حکام عرب دنیامیں سعودی عرب کے اعتبار وحیثیت کےنفوذ سےمایوس ہونےکےبعد، علاقائی سطح پرقطرکےوسیع کردارکےخواہاں ہيں۔

لیبیاکی داخلی جنگ کےدوران نیٹوکی فوجی کاروائی میں قطرکی حیرت انگیزمشارکت اورٹیونس کی پارلیمنٹ کےافتتاح کےموقع پر امیرقطرکی موجودگی ،قطرکےحالیہ سیاسی اقدامات کی مثالیں ہیں۔ایسےشواہد بھی موجود ہیں جن سےثابت ہوتاہےکہ حکومت قطرسومالیہ کےالشباب انتہاپسندگروہ کی مالی حمایت کرتی ہے۔

امیرقطران ملکوں میں شمارہوتےہیں جوشام کی حکومت کےخلاف سازشیں کررہےہيں۔شیخ حمدبن آل خلیفہ نےموریتانیہ کےصدرمحمدولدعبدالعزیزسےملاقات میں بھی بشاراسد پردباؤ ڈالنےکامطالبہ کیاتھالیکن محمدولد عبدالعزیزنے اس مطالبےپرردعمل ظاہرکرتےہوئےبشاراسد کےساتھ اپنی یکجہتی کااعلان کیا۔

ماہرین کی نظرميں قطرمیں طالبان کےدفترکےقیام کو بھی علاقےکی تبدیلیوں میں سعودی عرب کی جگہ قطرکےلےلینےکاثبوت سمجھتےہیں ۔سیکورٹی ذرائع اسلامی جمہوریہ مورتانیہ پر قطرکےنفوذ کےبارےمیں بھی خبردارکررہےہيں اور محمدولدعبدالعزیزاورامیرقطرکی ملاقات کوموریتانیہ کواس سازش میں گھسیٹنےکی ذریعہ سمجھتےہیں جوقطر، عرب ممالک کےلئے رچ رہاہے۔

بعض ذرائع ابلاغ دنیائےعرب میں قطرکےسفارتی اقدامات کی وجہ صہیونی ریاست کےساتھ اس کےتعلقات کوسمجھتےہيں ۔گذشتہ برسوں میں جارح صہیونی ریاست کےساتھ چھوٹےسےملک قطر کے ہمہ گیرتعلقات یہاں تک پہنچ گئےتھےکہ اس سلسلےمیں مصر اور قطر کےدرمیان رقابت شروع ہوگئی تھی ۔صرف مصر اور اردن دو ایسےعرب ملک ہیں جنھوں نے صہیونی ریاست کوتسلیم کیاہے دوحہ اور تل ابیت کےتعلقات اس حد تک پہنچ گئےتھےکہ سابق مصری ڈکٹیٹرحسنی مبارک کوتشویش ہونےلگی تھی۔

موجودہ صورت حال میں امیرقطر اپنےدورہ موریتانیہ کےموقع پر محمدولد عبدالعزیزکی پالیسیوں میں تبدیلی کےخواہاں تھے اورانھیں مغرب کی راہ پرچلانےکی کوشش کررہےتھے۔ اسرائیل سے موریتانیہ کےتعلقات ختم ہونےکےبعد مصری انقلابی بھی صہیونی ریاست کےساتھ تعلقات ختم کئےجانےکےخواہاں ہیں۔

........  /169