ابنا: تازہ ترین خبروں کے مطابق العراقیہ پارٹی کے چھ ارکان عراق کی اس سیاسی پارٹی سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ العراقیہ پارٹی کے رہنماؤں نے اس پارٹی کے بعض ارکان کو پارٹی کی قیادت کے فیصلوں کی مخالفت کرنے کی بنا پر پارٹی سے نکال دیا ہے۔
اس سے قبل بھی ایاد علاوی کے دھڑے سے تعلق رکھنے والے بیالیس افراد کو العراقیہ پارٹی سے نکال دیا گيا تھا۔ العراقیہ پارٹی سے نکلنے والے ایک رہنما محمد الموسوی نے کہا ہے کہ یہ پارٹی اپنے راستے سے بھٹک گئی ہے اور قبائلی رنگ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایاد علاوی کے دھڑے سے مزید افراد کے نکلنے سے العراقیہ پارٹی کو شدید نقصان پہنچے گا۔
العراقیہ کے بہت سے ارکان پارٹی کے رہنماؤں کے راستے کی مخالف سمت میں جا کر اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ عمل میں العراقیہ پارٹی کے طرزعمل سے علیحدگي کا اعلان کریں۔ العراقیہ پارٹی نے کچھ عرصہ قبل اپنے بعض ارکان کی درخواست پر کابینہ سے نکلنے اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تاکہ وزیراعظم نوری المالکی پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
نوری مالکی نے بھی فورا حکومت سے نکلنے والے العراقیہ کے وزراء کی جگہ نئے وزراء مقرر کر دیے۔ نوری مالکی کے اس اقدام نے کہ جو العراقیہ پارٹی کے لیے غیرمتوقع تھا، العراقیہ پارٹی کے اندر دھڑے بندی کا باعث بنا۔ یہاں تک کہ العراقیہ سے تعلق رکھنے والے بعض وزراء کہ جنہوں نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کے دباؤ پر کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی، اپنے اس اقدام پر پشیمان ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ واضح ہونے کے بعد طارق الہاشمی جیسے العراقیہ کے بعض سینئر رہنما عراق میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے، العراقیہ پارٹی کے اندر بداعتمادی کی فضا پیدا ہو گئي ہے۔
طارق الہاشمیطارق الہاشمی کے مقدمے کو سیاسی رنگ دینے اور اور غیرملکی طاقتوں کو اس معاملے کے بیچ میں لانے کے لیے العراقیہ کے رہنماؤں کی کوشش نے پارٹی کے اندر اپنی قیادت کے عزائم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اور یہ بات واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ العراقیہ کے رہنماؤں نے نوری مالکی پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے جو گڑھا کھودا تھا وہ خود اس میں گر گئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں العراقیہ پارٹی کے لیے پیش آئي ہے کہ جب امریکہ اور سعودی عرب میں اس کے اصلی حامی موجود تھے اور حتی العراقیہ کے بعض اقدامات تو براہ راست امریکہ اور سعودی عرب اسے ڈکٹیٹ کراتے تھے۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض سیاسی حلقوں نے العراقیہ کے اندر انتشار اور دوسرے لفظوں میں اس پارٹی سے اس کے ارکان کی علیحدگي کو امریکہ اور سعودی عرب کا نشانہ خطا جانے سے تعبیر کیا ہے۔
کیونکہ واشنگٹن اور ریاض نے گزشتہ دو برسوں کے دوران عراق کے سیاسی میدان میں العراقیہ پارٹی کے سیاسی وزن میں اضافے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں لیکن اس وقت العراقیہ کے رہنماؤں کو نہ صرف الزامات کی لہر کا سامنا ہے بلکہ اس پارٹی اندرونی حالات بھی ایسے ہیں کہ بہت سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ العراقیہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور عنقریب کا شیرازہ بکھر جائے گا۔........ /169