ابنا: صہیونی ریاست کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف آرمی اسٹاف بنی گانتس نے غزہ پٹی پر وسیع فوجی حملوں کی دھمکی دی تھی جس کے بعد صہیونی فوج نے گزشتہ منگل کے دن سے غزہ پٹی پر اپنے حملے پھر سے شروع کردیۓ ہیں۔
صہیونی ریاست کے لڑاکا طیاروں نے آج صبح غزہ شہر کو میزائلی حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور پانچ زخمی ہوگۓ ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے حملوں میں دو فلسطینی شہید اور پچیس زخمی ہوگۓ تھے۔
صہیونی ریاست کے ان حملوں کے خلاف جوابی کارروائي کرتے ہوۓ فلسطینی مجاہدین نے متعدد راکٹوں کے ذریعے اسرائيلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں صہیونیوں کے درمیان خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہاں تک صہیونی ذرائع ابلاغ نے ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ غزہ پر حملے کی صورت میں دو لاکھ اسرائيلی فلسطینی مجاہدین کے راکٹ حملوں کی زد میں آجائيں گے۔
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک سنیئر رہنما اسماعیل رضوان نے غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کے حملوں کی مذمت کرتے ہوۓ کہا ہےکہ استقامت ان حملوں کا مقابلہ کرنے کی مکمل آمادگی کی حامل ہے۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بھی صہیونی ریاست کے خلاف مسلح جد و جہد جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔
تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے رہنما خضر حبیب نے بھی کہا ہے کہ اگر صہیونی ریاست نے بائيس روزہ حملوں جسے حملے دوبارہ غزہ پٹی پر کرنےکی کوشش کی تو اس حکومت کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تنظیم آزادی فلسطین نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں غزہ پٹی اور مغربی کنارے پر صہیونی ریاست کے حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گيا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کی جارحیتوں اور اس حکومت کی جانب سے فلسطینیوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کی روک تھام کرے۔
واضح رہےکہ صہیونی ریاست نے سنہ دو ہزار آٹھ کے اواخر میں غزہ پٹی پر وسیع پیمانے پر بائيس روزہ حملے کۓ تھے لیکن فلسطین کی استقامت نے اس حکومت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا تھا اور یہ حکومت آج تک اس شکست کا ازالہ کرنے کے درپے ہے۔ ........
/169