اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی خاندان کی عملداری میں رہنے والے کروڑوں عوام بھی عرب دنیا کی بہار انقلاب سے الہام لے کر اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان میں وہ لوگ تو ابتدائے سال سے بیٹھے ہی نہیں ہیں جو موت سے ڈرنا گویا جانتے ہی نہیں ہیں لیکن آل سعود نے احتجاجی تحریک کو کـچلنے کی غرض سے، دستاویز حاصل کرنے کے لئے اس تحریک میں بیرونی مداخلت کا دعوی کیا ہے۔
الشرق الاوسط لیگل اور اسٹریٹجک مرکز کے سربراہ نے بھی ایسے ہی دعوے کئے اور کہا کہ سعودی عرب میں تناؤ امت اسلامی کی تباہی و بربادی کا سبب بنے گا۔
اس سے قبل آل خلیفہ خاندان نے بحرین کے عوامی انقلاب کو بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی تھی لیکن حتی اس دعوے کی تصدیق بادشاہ کی اپنی تحقیقاتی ٹیم بھی نہ کرسکی۔
الشرق الاوسط کے سعودی سربراہ "انور عشقی" کا کہنا تھا کہ القطیف اور العوامیہ کی تحریک بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے اور الشرقیہ کے عوام ملک میں تناؤ کے خواہاں ہیں۔
نام نہاد "لیگل اینڈ اسٹریٹجک مرکز" کے سربراہ نے منطقۃالشرقیہ میں آل سعود کی فورسز کے تشدد، قتل و غارت اور گرفتاریوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "بعض موٹر سائیل سواروں نے سرکاری فورسز پر فائرنگ کی تھی"۔
انھوں نے سعودی اذیتکدوں میں 30 ہزار سے زائد سیاسی قیدیوں کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا اور سیاسی آزادیوں کے مطالبے پر قید کئے جانے والے اسیروں کو فتنہ انگیزی کے حوالے سے مورد الزام ٹہرایا اور دسیوں برسوں سے بغیر مقدمے حبس بے جا میں رہنے والے قیدیوں کو بھی مجرم قرار دیا۔
ان سے اسیر عالم دین شیخ توفیق العامر جیسے متعدد راہنماؤوں کو مقدہ چلائے بغیر قید میں رکھنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان راہنماؤں پر بھی فتنہ انگیزي کا الزام لگایا لیکن جب ان سے القطیف، العوامیہ، الصفوان اور دوسرے شہروں اور قصبوں میں عوام کے پر امن مظاہروں کے اسباب کیا ہیں اور یہ کہ الشرقیہ کے مختلف علاقوں میں مساجد کی بندش اور حجاز و نجد و الشرقیہ کے شیعیان آل محمد (ع) اور آل سعود کے مخالفین کے خلاف وہابی مفتیوں کے عجیب و غریب فتووں کے بارے میں پوچھا گیا تو عشقی صاحب کی زبان بند ہوگئی اور کچھ نہ کہہ سکے۔
انور عشقی نے دعوی کیا کہ "آل سعود کی حکومت نے گذشتہ پانچ برسوں کے دوران 4500 شیعہ افراد کو شہریت عطا کی ہے!!" جبکہ آل سعود نے 30 لاکھ شیعیان آل محمد (ص) کو ہر قسم کے سماجی حقوق سے محروم کررکھا ہے اور شیعہ اکثریتی علاقوں کے تیل سے سعودی شہزادے ارب پتی ہوگئے ہیں؛ اور تو اور، ایک سعودی مفتی الحذیفی نے اکتوبر 2011 میں شیعیان حجاز کو عراق ہجرت کرنے کا مشورہ دیا تھا:
...............
/110