29 دسمبر 2011 - 20:30

ایک سیاسی راہنما نے نے آل سعود کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے معترضین پر تشدد کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں اور بیرونی ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی نگران ٹیمیں اس ملک میں روانہ کریں تا کہ وہ قوم پر آل سعود کے مظالم کا قریب سے مشاہدہ کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق جزیرہ نمائے عرب کے سیاستدان اور جمعیت ترقی و تغییر کے سربراہ، احمد آل ربح نے کہا ہے کہ آل سعود کی فورسز نے ایک بار پھر العوامیہ کے عوام پر اندھادھند فائرنگ کی ہے۔آل الربح نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود کی حکومت نہتے اور بےگناہ شہریوں کو قتل کرنا چاہتی ہے جبکہ یہ شہری اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے شہریوں کے پاس خالی ہاتھوں کے سوا کوئی ہتھیار نہیں ہے۔انھوں نے کہا: ال سعود کی فورسز احتجاجی تحریک کو خاموش نہیں کرسکتیں اور کبھی وہ عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔انھوں نے کہا: آل سعود کا خیال ہے کہ بڑی تعداد میں مسلح افواج اور مختلف ہتھیاروں کی تعیناتی، چیک پوسٹس اور ناکے لگانے نیز رہائشی علاقوں کا محاصرہ کرنے کے ذریعے العوامیہ میں احتجاجی تحریک کو دبایا جاسکے گا اور انھوں نے یہی کام دارالحکومت ریاض میں بھی کیا ہے تا کہ عوام کوئی مظاہرہ نہ کرسکیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرسکیں۔انھوں نے آل سعود کو واقعات و حادثات کو سنسر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا: سعودی فورسز العوامیہ کے عوام کے گھروں پر حملے کرتی ہیں، چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتی ہيں اور لوگوں کی ناموس پر مجرمانہ حملے کرتی ہیں اور ان کے گھروں سے چوری کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا: آل سعود کی حکومت ان حقائق کی تردید کرتی ہیں لیکن اگر وہ سچ بولتی ہے تو بین الاقوامی اداروں اور ذرائع ابلاغ کو اپنی سرزمین میں آنے کی اجازت کیوں نہیں دیتی تا کہ وہ آکر حقائق کی درست عکاسی کریں اور دنیا والے بھی جان لیں کہ سعودی حکومت عوام کے ساتھ کیا سلوک روا رکھ رہی ہے۔انھوں نے کہا: آل سعود نے دارالحکومت میں فوج تعینات کرکے وقتی طور پر عوام کی صدا بند کردی ہے لیکن العوامیہ کے عوام موت سے ڈرنا بھول گئے ہیں چنانچہ اس علاقے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ گذشتہ گیارہ مہینوں سے جاری ہے اور لوگ اپنے جائز مطالبات پر اصرار کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: حال ہی میں 60 مفکرین اور دانشوروں نے اپنے مفصل بیان میں واضح طور کہا ہے کہ سعودی وزارت داخلہ کے گماشتے عوام کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔آل ربح نے العالم چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے برطانیہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نائب سربراہ ـ جو اسی وقت سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے العالم کو انٹرویو دے رہے تھے ـ سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر منطقۃ الشرقیہ کے مختلف شہروں کا دورہ کریں اور اپنی آنکھوں سے سڑکوں اور راستوں پر تعینات ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور بھاری فوجی گاڑیوں کا قریب سے مشاہدہ کریں۔آل ربح نے الشرقیہ کے علاقے میں مذہبی اور قومی امتیازات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ العوامیہ اور القطیف اور منطقۃ الشرقیہ کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں اہل تشیع کو ایک بھی سرکاری عہدہ نہیں دیا جاتا، کسی ادارے یا وزارتخانے کی ذمہ داری اہل تشیع کو نہیں دی جاتی حتی کہ اسکولوں کے پرنسپل اور ہیڈماسٹر کا عہدہ بھی انہیں دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔آل الربح نے شیخ یوسف الاحمد اور شیخ توفیق العامر کی اسارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بہت سے افراد گذشتہ 16 برسوں سے پابند سلاسل ہیں اور ان پر ابھی تک مقدمہ نہیں چلا ہے جبکہ ان افراد کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ ملک میں پارلمانی نظام کے قیام اور سرکاری اہلکاروں کے براہ راست عوامی انتخاب کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا: ہمیں یقین ہے کہ آل سعود کے حکمران برطانیہ کے انسانی حقوق کمیشن کے وفد کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ سعودی حکومت ہرگز قبول نہیں کرتی کہ کوئی آ کر ان کے ہاتھوں پامال ہونے والے انسانی حقوق کی نگرانی نہ کرسکے تاہم عوامی اپنی احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں اور یہ تحریک مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔ انھوں نے آل سعود سے مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کی آزادہ فعالیت کے لئے قانون سازی کرے اور ہماری درخواست یہ ہے کہ ایسا قانون نافذ ہوجائے جس میں سیاسی جماعتوں کو آزادانہ کام کرنے کا حق دیا جائے اور بیرون ملک سے آنے والے سیاستدانوں کو گرفتار نہ کیا جائے۔

...............

/169

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے :

شیعہ عالم دین کے گھر پر فائرنگ/ سیاستدان کے اہل خانہ گرفتار