اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق القطیف کے عوام نے آل سعود کے شدید سیکورٹی انتظامات کے باوجود "شہید کا خون تبدیلی کا پیش خیمہ" کے عنوان سے مظاہرے کئے اور ہزاروں افراد نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔
القطیف کے مظاہرے کے شرکاء نے عربستانی عوام کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پر زور دیتے ہوئے اسیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے 16 سال قبل مقدمہ چلائے بغیر قید کئے جانے والے فراموش افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
قطیف کے علاوہ العوامیہ میں بھی مظاہرے ہوئے اور اس شہر کے نوجوانوں نے بھی اپنے جائز مطالبات کو دہرایا۔
گذشتہ بدھ کے روز بھی القطیف، العوامیہ اور التاروت کے عوام نے مظاہرے کئے اور آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کی۔
آل سعود کے گماشتوں نے القطیف میں عوام کے پرامن مظاہروں کا جواب گولی سے دیا۔ التاروت میں ہونے والے مظاہرے میں عربستانی مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر "قوم انسانی حقوق چاہتی ہے"، جیسے نعرے درج تھے۔
ایک اور اطلاع کے مطابق تیل کی دولت سے مالامال منطقۃالشرقیہ کے عوام نے اپنے مظاہروں کے دوران ہزاروں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ عربستانیوں نے پرامن اور نہتے عوام پر آل سعود کے تشدد کی مذمت کی۔عربستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ آل سعود کی حکومت عوام کو سیاسی آزادیاں دے اور سیاسی قیدی فوری طور پر رہا کئے جائیں۔
سعودی سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ سعودی اذیتکدوں میں 30 ہزار سیاسی قیدی پابند سلاسل ہیں اور ان کو جسمانی اور نفسیاتی ٹارچر کا سامنا ہےعربستان کے مشرقی علاقوں میں گذشتہ مہینے آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں چار نوجوانوں کی شہادت کے بعد سے اب تک مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثناء ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پر امن مظاہروں کو طاقت استعمال کرکے کچلنے کے سعودی اقدامات کی مذمت کی ہے۔
آل سعود کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے سنہ 2011 کے آغاز سے عرب ممالک میں شروع ہونے والے انقلابات کی مخالفت کی ہے اور آل سعود کے گماشتے شمالی افریقہ سے لے کے خلیج فارس تک کے ممالک میں مداخلت کرکے ان انقلابات کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں اور عراق، شام اور پاکستان میں تکفیری وہابیوں کی مدد کررہے ہیں۔آل سعود نے بحرین اور یمن کے انقلابات کو ناکام بنانے کے لئے براہ راست مداخلت کی ہے اور تمام ڈکٹیٹروں کی حمایت کررہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ اس خاندان کو ـ جو اب قطر کے ٹنی اسٹیٹ کی طرف سے بھی چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے ـ بہت جلد ملک گیر عوامی انقلاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ........
/110