25 دسمبر 2011 - 20:30

امریکی محققین نے کہا ہے کہ آل سعود اور وہائٹ ہاوس گيارہ ستمبر کے دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہیں۔

ابنا: امریکہ میں گيارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں تحقیقاتی کتاب لکھنے والے مصنفین رابین سوان اور اینتھونی سامرز نے لکھا ہے کہ نائن الیون کے حملے سعودی عرب کی حکومت اور وہائٹ ہاوس کی ہم آہنگي سے انجام پائے تھے۔ رابین سوان اور اینتھونی سامرز نے گيارہ ستمبر کے بارے میں امریکی حکومت کا نظریہ مسترد کردیا ہے۔

رابین سوان اور اینتھونی سامرز نے اپنی تحقیقاتی کتاب" گيارھواں دن، گيارہ ستمبر کی مکمل روداد اور اسامہ بن لادن " میں لکھا ہےکہ امریکی کانگریس کے سربراہ سنیٹر باب گراہام کی رپورٹ کو چھ مہینوں تک طاق نسیان کے سپرد کردیا گيا تھا اور آخر کار جب اسے نشر کیا گيا تو اسکے بڑے حصے کو سنسر کردیا گيا تھا۔ رابین سون نے کہا کہ جن لوگوں نے اس رپورٹ کے سینسر ہونے سےقبل اس کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ رپورٹ میں کہا گيا ہےکہ ایسے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہےکہ گيارہ ستمبر کے دہشتگردانہ حملوں کے دوران آل سعود کی حکومت اور آل سعود کے افراد ہائي جیکروں سے رابطے میں تھے۔

ان امریکی محققین نے کہا ہے کہ انہوں نے سنسر شدہ ثبوت و شواہد اپنی کتاب میں شامل کئے ہیں۔ اور ان ثبوتوں اور شواہد سے معلوم ہوتا ہےکہ آل سعود کے حکام گيارہ ستمبر کے دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہیں۔ یاد رہے امریکہ کی ایک عدالت نے ایران پر الزام لگایا ہےکہ ایران گيارہ سمتبر کے واقعات میں ملوث ہے ۔ اس امریکی عدالت نے ایران سے ایک سو ارب ڈالر کے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے امریکہ میں اس طرح کے ڈرامے ایسے حالات میں رچے جارہے ہیں کہ جب امریکی حکومت گيارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں کئے گئے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کررہی ہے ۔
........

/169