23 دسمبر 2011 - 20:30

کراچی…چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ سندھ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں،کارکردگی بڑھانے کے لئے پراسیکیوشن کا تعاون ضروری ہے،

ابنا: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی زیر صدارات کراچی کی صورتحال پر اجلاس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ مقدمات تیزی سے نمٹانے کے لئے پراسیکوشن کے تعاون کی ضرورت ہے، شیخ لیاقت حسین کیس کی روشنی میں اے ٹی سی کی مانیٹرنگ سپریم کورٹ کو کرنی ہے۔

ہم صرف سہولتیں فراہم کرسکتے ہیں کارکردگی بڑھانے کے لئے پراسیکیوشن کا تعاون ضروری ہے۔اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے بریفنگ میں کہا کہ سندھ میں 12 خصوصی عدالتیں کام کررہی ہیں،انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ایک ہزار ایک سو چوبیس مقدمے زیر التوا ہیں اور گزشتہ ایک سال میں 238 مقدمات کا فیصلہ ہوا ہے،چیف جسٹس نے ویج بورڈ کے نفاذ کے لئے مظاہرے پرایپنیک کی درخواست بھی طلب کرلی ہے۔  .....

/169