ابنا: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے میمو کیس میں بابر اعوان کی پریس کانفرنس سے متعلق وزیر اعظم گیلانی کے بیان کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ بابر اعوان کی پریس کانفرنس سے متعلق وزیر اعظم کا بیان مبہم ہے، دو ٹوک موٴقف پیش کیا جائے۔ اس سے قبل چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن گئے جب غیرآئینی حکومت کی عدالت سے توثیق کرالی جاتی تھی،کوئی ٹیک اوور نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ میں میمو کیس کی سماعت جاری ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں9رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوائے آئین کے کوئی اتھارٹی نہیں ، آئین پر عمل ہوگا کوئی آئینی حد پار نہیں کریگا۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ جولائی کی مہم جوئی کے تمام اقدام سرے سے کالعدم قرار دیدیے گئے، 3 نومبر کو جو ہوا اس پر عدالت نے حکم جاری کیا، نظام آئین کی مطابق چلے گا،ہم سیاسی بیانات سے متاثر نہیں ہوتے، عدالت کسی کو فریق بناتی ہے نہ ہی کسی کے گھر جاتی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ آئی ایس آئی،آرمی چیف ،حقانی سمیت سب نے کہاتحقیقات ہونی چاہییں۔
........
/169