19 دسمبر 2011 - 20:30

امریکہ نے عراق پر قبضہ کرکے اپنی طاقت کو ملا منازع ہونے کی کوشش کی مگر تاریخ کہ یہ پرخرچ ترین جنگ امریکی سلطنت کی آخری جنگ ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔

مضمون کا عنوان کسی امریکہ مخالف شخص یا تنظیم کا نعرہ نہیں بلکہ برطانوی روزنامے گارڈین کے ایک مضمون کی سرخی ہے۔گارڈین: امریکی طاقت کی نمائش تاریخ کے سب سے مہنگے بومرنگ (1) میں بدل گئی۔گارڈین: عراقی جنگ کے خاتمے میں امریکی امپائر کی موت کی گھنٹی (Death Knell) بجا دی۔ گارڈين نے عراق سے امریکیوں کے انخلاء کو امریکی امپائر کے لئے مثبت علامت قرار نہیں دیا اور لکھا:امریکی سپاہی عراق سے نکل اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور یہ سپاہی ان ہزاروں سپاہیوں کے علاوہ ہیں جو عراق میں جان کی بازی ہار گئے اور یہ ان دسیوں ہزار سپاہیوں سے بھی علیحدہ ہیں جو اس قدر معذور ہوچکے ہیں کہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے اور یہ ان ٹریلینز ڈالرز کے علاوہ ہے جو یہ سپاہی ایک جلتے ہوئے اور ویران ہوتے ہوئے عرب ملک میں خرچ کرکے آرہے ہیں، انھوں نے تعصب کا ماحول پیدا کیا، ایران کو پہلے سے زیادہ طاقتور کردیا اور پورے عالم اسلام میں فرقہ وارانہ اختلافات کی آگ بھڑکا دی لیکن امریکیوں نے عراق میں اپنی ڈیوٹی بڑی دشواری سے سرانجام دی۔ اور یہ امریکی صدر اوباما کے عراقی وداع نامے سے بالکل ظاہر تھا جو انھوں نے رواں ہفتے کے دوران فرت براگ میں سنادیا۔گارڈین نے مزيد لکھا: طے تو یہ تھا کہ عراق پر امریکی حملہ طاقت کی نمائش ہو لیکن یہ حملہ جانی اور مالی نقصانات کے لحاظ سے تاریخ کے سب سے بڑے اور قیمتی بومرنگ میں تبدیل ہوگیا اور جناب اوباما جتنا ـ بقول ان کے "خاموش جنگ" کے بارے میں ـ بولتے رہے یہ حقیقت زیادہ سے زیادہ واضح ہوتی رہی کہ ان کو [صدر بناکر] شکست کا سرنگوں جھنڈا سنبھالنے کا فریضہ سونپ دیا گیا ہے اور عراق سے امریکی افواج کی پسپائی درحقیقت امریکی امپائر کی موت کی گھنٹی تھی جو بج گئی اور ایک تنہا بگلر (Bugler) کے جلے ہوئے غرور کی راکھ میں یک قطبی دنیا (Unipolar world) کا خاتمے کا اعلان تھا جبکہ کھڑے ہوکر فوجوں کی پسپائی کا بگل بجاتا ہے۔گارڈین نے لکھا: امریکہ عراق میں اپنا مشن پورا ہونے پر ہمیں اس کی تخریبکاریوں آثار کو گھور گھور کر دیکھنے کی دعوت دے رہا ہے۔گارڈین نے لکھا: امریکہ کی جنگ تیل کے لئے تھی، اسرائیل کے لئے تھی، اور چین سمیت دوسرے ممالک کو امریکی طاقت سے خوفزدہ کرنے کے لئے تھی لیکن یہ جنگ تاریخ کا سب سے بڑا بومرنگ میں تبدیل ہوئی اور دیوالیہ پن کے قریب پہنچنے والی امریکی طاقت کے نقائص اور محدودیتوں کو عیاں کرگئی۔ گارڈين نے لکھا: سب کو خوف تھا کہ امریکی امپائر انتہائی تیز رفتاری سے عراق کی فضاؤں کو زیر نگیں لائے گا لیکن امریکی فوجی (مارچ 2003) میں عراق میں داخل ہونے سے لے کر اپنی پسپائی کے زمانے تک حتی ایک سڑک پر بھی پوری طرح قبضہ نہ جماسکے اور قابو نہ پاسکے اور بغداد کی ہی سڑک "شارع حیفا" امریکیوں کے قبرستان میں بدل گئی تھی اور شاید اس سڑک کے کنارے اب تک سینکڑوں امریکی فوجیوں کی لاشیں سپرد خاک کی گئی ہیں۔ گارڈین نے لکھا: فلوجہ میں فوجی قلعے ـ اسٹالینگراڈ کے مورچوں کی مانند ـ بیرونی حملوں کے مقابلے میں مزاحمت کی علامت کے طور پر باقی رہ گئے۔"ابوغریب جیل" ـ جہاں عراقیوں کو برہنہ کرکے خوار کیا جاتا رہا ـ [ایک اصطلاح کے عنوان سے] دوسروں پر حملہ کرنے والے عناصر کی بربریت کے لغتنامے میں ثبت ہوگئی اور امریکی افواج کے [بظاہر] مہذبانہ مشن کا رنگ فک کرگئی۔ گارڈین نے لکھا: ملک امریکہ کی ایک تہائی آبادی یا تو غریب ہے یا غربت کی لکیر کے قریب ہے اور بغداد کی سڑک "حیفا" پر بھی تو امریکی امپائر کو سر عام سزا دی گئی چنانچہ اب چین بخوبی جانتا ہے کہ اسے اب اس کاغذی شیر سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہيں ہے۔ مضمون نویس لکھتا ہے: میں یہ مضمون ایسے حال میں لکھ رہا ہوں کہ دنیا میں عراق پر امریکی حملہ ایک جرم سے بھی بدتر ہے: یہ جنگ تمام خطاؤں کی ماں تھی۔ میں نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر سے کہا تھا کہ بغداد کا سقوط [اور اس شہر پر برطانیہ اور امریکہ کا قبضہ] ایک اختتام کا آغاز نہیں ہے بلکہ ایک آغاز کا اختتام ہے اور اگر ضروری ہوا تو عراقی عوام اپنی پوری طاقت سے بیرونی افواج کے خلاف لڑیں گے حتی کہ انہیں اپنے ملک سے باہر پھینک دیں۔ میں نے بلیئر سے کہہ دیا کہ: عراق میں القاعدہ نامی کوئی شیۓ نہیں ہے لیکن اگر وہ [بلیئر] اور بش عراق پر حملہ کرنا چاہیں تو عراق میں ہزاروں القاعدہ تنظیمیں معرض وجود میں آئیں گی۔ مضمون کے دو اہم نکتے:٭ جھوٹ اور دھوکے کی وہ عمارت زمیں بوس ہوگئی جس کی بنیاد پر عراق پر جارحیت کا کیس بنایا گیا تھا اور یوں دو بڑے جھوٹوں یعنی امریکہ اور برطانیہ کے سیاسی نظام کی بنیادیں بھی منہدم ہوگئیں۔٭ عراقی عوام کی مزاحمت نے مراکش سے لے کر بحرین تک عالم عرب میں تبدیلیوں کے آؤٹ لک (زاویہ نگاہ Outlook) کا تعین کردیا۔گارڈين نے کے مضمون نگار نے اپنے مضمون کے آخر میں لکھا: عراق کی جنگ کے خاتمے کے بعد اب صورت حال یہ ہے امریکہ اور برطانیہ میں کوئی شخص بھی اپنے سیاستدانوں کی باتوں کا اعتبار نہیں کرتا کیونکہ یہ عظیم تبدیلی عراق کی جنگ کی وجہ سے رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ اس جنگ کی وجہ سے اپنے عروج تک پہنچ گئی ہے اور امریکہ میں اس عمومی ناراضگی نے "ٹی پارٹی پارٹی" اور "وال اسٹریٹ پر قبضے" جیسی تحریکوں کو جنم دیا ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا کہ کشورگشائی کی سیری ناپذیر لالچ (The insatiable greed of conquer)

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

لالچ کا انجام:

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرُو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

بھرم بھی کھل ہی جاتا ہے:

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پرپیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

1۔ بومرنگ: (بومرنگ ویکی پیڈیا) "لکڑی کا ایک چپٹا اور خمدار ہتھیار جسے آسٹریلیا کے قدیم باشندے شکار اور جنگ میں استعمال کرتے ہیں یہ ہتھیار یاتو نشانے پر لگتا اور اگر نشانے پر نہ لگے تو چکر کھا کر واپس پھینکنے والے کی طرف آجاتا ہے"۔ عراق میں بھی شاید ایسا ہی واقعہ رونما ہوا ہے!۔

وہ جارہے ہیں لیکن عراق میں کسی کو کوئی غم نہیں ان کے جانے کا حتی عراقی بچے ان کا جانے کا جشن یوں منا رہے ہیں!