16 دسمبر 2011 - 20:30

بحرین کی سیاسی جماعت "جمعیۃالعمل الاسلامی" کے سینئر رکن نے کہا: برطانویوں کی خواہش ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی عمر طویل تر ہو لیکن امریکہ اور برطانیہ دونوں اس حکومت کے ظلم و جبر کے سامنے دشوار صورت حال سے دوچار ہوچکے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "ہشام الصباغ" نے خلیفی بادشاہ "حمد بن عیسی آل خلیفہ" کے اچانک اور خفیہ دورہ برطانیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حمد بن عیسی کے دورہ بحرین کا مقصد بیرونی مخالفین کو ایک قسم کی خیر سگالی کا پیغام دینا تھا لیکن جب تک ملک کے بحران کے حل کے لئے کوئی فیصلہ کن اقدام عمل میں نہ آئے ہم ان کے وعدوں کو قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ انھوں نے آل خلیفہ کو دباؤ میں لانے کے لئے احتجاجی تحریک کے مثبت اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ کے حکمران اس وقت عوامی تحریک کے دباؤ میں ہیں؛ روزگار سے بے دخل ہونے والے ملازمین تمام وزارتخانوں کے سامنے مظاہرے کررہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں اور بیرون ملک مقیم بحرینی شہری بھی سرگرم عمل ہوگئے ہیں چنانچہ آل خلیفہ کو اندرونی اور بیرونی سطح پر سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت کے اتنے مظالم، جرائم اور خلاف ورزیوں نیز قومی اور نسلی امتیاز پر مبنی اقدامات کے بعد ہم 14 فروری 2011 سے قبل کی صورت حال میں نہیں لوٹ سکتے اور ہمیں آگے بڑھتے ہے رہنا ہوگا۔............

/110

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

54ویں شہید کا جلوس جنازہ، خاتون کارکن گرفتار، بحرین میں تناؤ بڑھتا رہے گا