16 دسمبر 2011 - 20:30

آل خلیفہ کی فورسز نے جمعرات کے روز البدیع نامی شاہراہ پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بے تحاشا آنسو گیس اور زہریلی گیسوں کے گولے پھینک دیئے اور مظاہرین کو منتشر کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے شعبے میں فعال خاتون راہنما محترمہ زینب الخواجہ کو خلیفی فورسز نے البدیع اسکوائر سے گرفتار کرلیا ہے۔ الخواجہ نے اپنی گرفتاری سے تھوڑی دیر قبل ٹویٹر پر یہ پیغام دیا ہے: "ہم البدیع اسکوائر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور حَمَد مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، متعدد لڑکیاں مجھ سے آملی ہیں"۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق زینب الخواجہ اور دوسرے بحرینی شہریوں نے کل البدیع اسکوائر پر دھرنا دیا تھا کہ اسی اثناء میں خلیفی پولیس کی خاتون اہلکار ان کے پاس پہنچیں اور انہیں اٹھنے اور خاموش رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے دھمکیاں دیں لیکن زينب الخواجہ نہ دھیان نہ دیا چنانچہ خلیفی لیڈی پولیس نے ان کو ہتھکڑیاں لگائیں اور انہیں پکڑ کر اپنی گاڑی تک زمین پر گھسیٹا۔

الخواجہ کی ایک دوست "مریم السراج" بھی ان کے ساتھ دھرنے پر بیٹھی تھیں اور الخواجہ کے ساتھ گرفتار ہونے کے چند گھنٹے بعد رہا کردی گئیں۔ انھوں نے اپنی رہائی کے بعد ٹویٹر سماجی ویب بیس پر لکھا: "اب وہ لوگ جو البدیع اسکوائر پر موجود تھے اور الخواجہ کی گرفتاری کا تماشا دیکھ رہے تھے، لکھیں گے، بات کریں گے اور روئیں گے لیکن ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ تم وہاں موجود تھے اور خلیفی پولیس کو زینب الخواجہ کی گرفتاری سے روک سکتے تھے"۔

زینب الخواجہ انسانی حقوق مرکز کے سابق صدر عبدالہادی الخواجہ کی بیٹی ہیں جنہیں کئی مہینے قبل گرفتار کرکے فوجی عدالت سے قید کی سزا ہوئی ہے۔ انہیں بحرینی عوام کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے کی پاداش میں اسارت کے دن گذارنے پڑ رہے ہیں جبکہ ان کے خاندان کے کئی اور افراد نے بھی آل خلیفہ کی اسارت کاٹی ہے۔ انھوں نے اپنے والد کی گرفتاری کے بعد ایک ہفتے تک بھوک ہڑتال کی جس کی وجہ سے انہیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ اسی زمانے میں انھوں نے بیرونی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا: "میں عزت کی موت کو آل خلیفہ کی حکمرانی میں ذلت کی زندگی گذارنے پر ترجیح دیتی ہوں"۔ زینب الخواجہ حال ہی میں ایک زنانہ مجلس عزا پر خلیفی درندوں کے حملے میں وقتی طور پر گرفتار کی گئی تھیں۔

انھوں نے بجرین کی ناگفتہ بہ صورت حال کے پیش نظر اب تک امریکی صدر اوباما سمیت متعدد سربراہان مملکت و حکومت نیز مختلف عالمی اداروں اور تنظیموں کے سربراہوں اور خاص طور پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو خطوط لکھ دیئے ہیں اور ان خطوط میں آل خلیفہ کے مظالم بیان کئے ہیں۔

زینب الخواجہ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے: "جب آپ غل و زنجیر میں اسیر ہیں، اور نہ تو آپ کی کوئی عزت ہے اور نہ ہی آپ کے حقوق ہیں اور جرائم پیشہ ڈکٹیٹروں کی تعظیم پر مجبور ہیں تو سب سے پہلا قدم جو آپ کو اٹھانا ہے وہ یہ ہے یہ خوف اور ڈر کو بھول جائیں اور جان لیں کہ یہ آپ کا حق ہے کہ غضبناک اور غصے کی حالت میں رہیں"۔

........

/169-110

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

54ویں شہید کا جلوس جنازہ، خاتون کارکن گرفتار، بحرین میں تناؤ بڑھتا رہے گا