12 دسمبر 2011 - 20:30

سفیروں کی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی چوکیوں پر اتحادی افواج کے حملے سے ہماری قومی سلامتی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ پاکستان ملکی سلامتی اور خود مختاری کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

ابنا: وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے دنیا پر واضع کیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق عالمی امن و استحکام کے لئے کوشاں ہے۔ غیر ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں کی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی چوکیوں پر اتحادی افواج کے حملے سے ہماری قومی سلامتی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ پاکستان ملکی سلامتی اور خود مختاری کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ملکی دفاع کے لئے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ اور ساتھ کھڑی ہے، عوام کی حمایت کے بغیر کوئی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی، ہم ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ نیٹو اور ایساف کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔ سفیروں کی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیاء اس وقت مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے،خطے کے استحکام کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

دیگر ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے نیٹو حملے سے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا۔ کوئی بھی پالیسی عوام کی حمایت کے بغیر نہیں بنائی جا سکتی۔ اسلام آباد میں سفراء کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی مفاد کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پاکستان عالمی امن و استحکام کے لئے کوشاں ہے اور تمام ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان نے تین دہائیوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے، عالمی برادری اس جانب توجہ نہیں دے رہی۔ جنوبی ایشیاء کو اس وقت مشکل حالات کا سامنا ہے، اس وقت تمام کوششیں افغانستان میں امن و استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔
 
وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا حکومت قومی سلامتی اور ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ نیٹو حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پاکستان تمام سوالوں کے جوابات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا نیٹو حملے کے بعد جمہوری حکومت نے ملکی مفاد کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے۔ سینئر سفیروں مسعود خان، خالد خٹک اور تہمینہ جنجوعہ پر مشتمل کمیٹی دو روزہ کانفرنس کی سفارشات کو حتمی شکل دینے کیلئے کام کر رہی ہے۔ رات گئے تک سفارشات کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

...........

/169