9 دسمبر 2011 - 20:30

معروف شیعہ عالم دین کا اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو میں کہنا تھا کہ کلاشنکوف کلچر اور سپاہ صحابہ ضیاء الحق کی پیداوار ہے.

ابنا: امام حسین علیہ اسلام کی قربانی کا صدقہ ہے کہ آج اذان ہو رہی ہے، آج کلمہ اور نماز پڑھی جا رہی ہے، پاکستان کو بھی ایک خمینی رہ کی ضرورت ہے، ملک میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اتحادو اتفاق روز اول سے ہے اور آخر تک رہے گا لیکن ایک قوت جو امریکہ سے پیسے لیکر کارروائیاں کر رہی ہے وہ ہمارے، سنی بھائیوں اور حکومت کے قابو سے باہر ہے، حکومت پاکستان اس وجہ سے بے بس ہے کیونکہ ہم امریکہ کے غلام ہیں، اگر آج ہم امریکی غلامی کی زنجیر کو توڑ دیں تو کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، کرم ایجنسی امن معاہدہ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔

 شیعہ عالم دین علامہ علی سرور سرحدی کا بنیادی تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے ہے، آپ 12 فروری 1954ء کو پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم آبائی شہر سے حاصل کی، میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1970ء میں دینی علم کے حصول کیلئے لاہور تشریف لے گئے، جہاں آپ 10 سال تک علم دین سے فیضیاب ہوئے، جس کے بعد آپ کو علی ع مسجد میں بحیثیت خطیب فرائض کی انجام دہی کیلئے نوشہرہ بھیج دیا گیا، آپ نے ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے، علامہ علی سرور کا شمار صوبہ خیبر پختونخوا کے معروف شیعہ علماء میں ہوتا ہے، آپ حال ہی میں کرم ایجنسی میں طے پانے والے امن معاہدہ کے رکن بھی ہیں، اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے آپ کی خدمات کو ملت تشیع سمیت مختلف مکاتب فکر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، علامہ صاحب آج کل علی ع مسجد نوشہرہ میں خطیب کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھانے کے علاوہ مختلف فورمز پر ملت تشیع کی بھرپور نمائندگی کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں، اسلام ٹائمز نے ملک بلخصوص خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات، ملت تشیع کو درپیش چیلنج اور محرم الحرام کے حوالے سے علامہ علی سرور سرحدی کیساتھ انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔

اسلام ٹائمز:علامہ صاحب جیسا کہ کوہاٹ، ہنگو، پاراچنار اور ان سے ملحقہ علاقوں میں اہل تشیع کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور یہاں اکثر حالات کشیدہ رہتے ہیں، یہ بتایئے گا کہ ان علاقوں کے موجودہ حالات کیسے ہیں۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:محرم الحرام کے حوالے سے ہنگو کی صورتحال کچھ حد تک کشیدہ ہے البتہ یکم محرم سے قبل شیعہ سنی رہنمائوں کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا تھا جس میں طے کیا گیا تھا کہ دونوں مکاتب فکر محرم الحرام میں پرامن رہیں گے، اہل سنت کا میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اہل تشیع کے ساتھ اس مرتبہ بہت تعاون کیا، انہوں نے ہمیں کہا کہ آپ یوم عاشور کا اپنا روایتی جلوس نکالیں، ہم آپ کو اپنی طرف سے مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ ہر ممکن تعاون کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ آپ ہماری طرف سے بالکل مطمئن رہیں، لیکن ایک تیسری خفیہ قوت جب کوئی شرارت کر جائے تو اس کی ذمہ داری ہم قبول نہیں کر سکتے کیونکہ وہ نہ آپ کے بس میں ہے نہ ہمارے، اس یقین دہانی کی وجہ سے کوہاٹ، ہنگو استرزئی اور دیگر علاقوں کے اہل تشیع مطمئن ہیں اور ماضی کے برعکس اس مرتبہ حالات بہتر ہیں۔

اسلام ٹائمز:ان علاقوں میں اہل تشیع کی ایک بڑی تعداد دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکی ہے، کیا اس حوالے سے حکومت ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہوئی یا نہیں اور کیا متاثرین کی کسی قسم کی مالی امداد کی گئی۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:2005ء میں ہنگو میں ہونے والے یوم عاشور کے دھماکہ میں میرا بھانجا بھی شہید ہوا، حکومتی سطح پر متاثرین کی امداد نہ ہونے کے برابر ہے، بعض تنظیموں نے اپنے طور پر پیسے جمع کر کے متاثرین کی امداد کی، جہاں تک مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا تعلق ہے تو انہیں کون گرفتار کر سکتا ہے۔؟ جو خودکش دھماکہ کرتا ہے اس کا پتہ نہیں چلتا کہ کہاں سے آیا تھا کس نے بھیجا، وقتی طور پر حکومت پکڑ دھکڑ کر لیتی ہے، لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔

اسلام ٹائمز:ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے ملت تشیع سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کیخلاف اکثر مزموم کارروائیاں کی جاتی ہیں لیکن ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، آپ کے خیال میں ان کالعدم تنظیموں کو حکمرانوں کی سپورٹ حاصل ہے یا پھر ہماری حکومت ان کے سامنے بے بس ہے۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:مکمل یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت ان کے سامنے بے بس ہے کیونکہ وہ پھر کوئی حکومت ہی نہ ہوئی جو ایک چھوٹی سے تنظیم کے سامنے اپنے ہاہتھ باندھ لے، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی مصلحت کے تحت حکومت ان کیساتھ سختی نہ کر رہی ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ حکومت کی پکڑ میں نہ آسکتے ہوں، اگر یہ کہا جائے کہ حکومت پاکستان ان لوگوں کیساتھ ملی ہوئی ہے تو یہ بھی غلط ہو گا۔

اسلام ٹائمز:کراچی سے پاراچنار تک پاکستان کے اہل تشیع کو جو مشکلات درپیش ہیں یہ اتحاد و اتفاق کی کمی کا نتیجہ ہے یا پھر ان معاملات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:ملک میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اتحاد و اتفاق روز اول سے ہے اور آخر تک رہے گا اور اس بارے میں ہمیں اور اہل سنت دونوں کو کوئی شک بھی نہیں، لیکن ایک قوت جو امریکہ سے پیسے لیکر کارروائیاں کر رہی ہے وہ ہمارے، سنی بھائیوں اور حکومت کے قابو سے باہر ہے، حکومت پاکستان اس وجہ سے بے بس ہے کیونکہ ہم امریکہ کے غلام ہیں، اگر آج ہم امریکی غلامی کی زنجیر کو توڑ دیں اور ایران کی طرح امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیں تو کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، پاکستان ایٹمی طاقت ہے، امریکہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، ہم بے بس اور قید ہو چکے ہیں اور خواہ مخواہ کا خوف مسلط کیا ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز:آپ نے امریکی مداخلت کا ذکر کیا، میرا اگلا سوال بھی اسی بارے میں ہے کہ کیا آپ کے خیال میں پاکستان کی دینی جماعتیں قوم کو امریکی مداخلت سے نجات دلا سکتی ہیں۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:دینی جماعتیں امریکی مداخلت سے نجات دلا سکتی ہیں، لیکن جب پیسہ انوولو ہو جائے تو یہ مسلمان کی سب سے بڑی کمزوری ہے، حقیقت میں پیسہ چلتا ہے لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ کوئی سنی کرتا ہے یہ شیعہ، جس کا ایمان متزلزل ہو اسے پیسہ مزید خراب کر دیتا ہے، اس لئے پیسے کے سامنے اتحاد و اتفاق نہیں رہتا۔

اسلام ٹائمز:حکومت خیبر پختونخوا نے محرم الحرام کے حوالے سے صوبے کے 5 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا تھا، کیا آپ محرم کے دوران حکومت کی جانب سے کئے گئے سیکورٹی اقدامات سے مطمئن ہیں۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:جب میں محرم کے سلسلے میں نوشہرہ سے پشاو ر آیا تو مجھے بتایا گیا کہ نوشہرہ میں ایک خودکش داخل ہوا ہے، جو مجالس یا جلوس کو نشانہ بنانا سکتا ہے، جس کے بعد ہم نے نوشہرہ کی سیکورٹی سخت کروائی، صوبہ کے مختلف اضلاع کیلئے حکومت نے اتنی پولیس نفری فراہم کی ہے کہ ہم بالکل مطمئن ہیں لیکن مطمئن ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم بالکل غافل ہو کر بیٹھ جائیں۔

اسلام ٹائمز:جیسا کہ آپ کے علم میں ہو گا کہ ایک افسوسناک واقعہ کے نتیجے میں پشاور کی انتظامیہ نے ایک امام بارگاہ کو سیل کر دیا ہے، کیا انتظامیہ کا یہ اقدام جانبدارنہ نہیں۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:امام بارگاہ کو سیل نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ نقصان بھی شیعوں کا ہوا اور امام بارگاہ کو بھی سیل کر رہے ہیں، سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ امام بارگاہ کو نقصان پہنچا، ممکن ہے کہ یہ ہماری سکیورٹی کی کمی بھی ہو جبکہ پولیس کی غفلت بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں امام بارگاہ کو سیل کرنا انصاف کی بات نہیں، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر امام بارگاہ کو کھولا جائے، امام بارگاہ کھلی رہنی چاہئے اور اس کی سکیورٹی بڑھا دی جائے، آج ایک امام بارگاہ کو سیل کیا گیا ہے کل دوسری کو کیا جائے گا، اس طرح ایک ہوا چل پڑے گی اور لوگ مشتعل ہو سکتے ہیں، اگر آپ کسی کی عزاداری بند کریں گے تو اس کا ردعمل ایک نہ ایک دن سامنے آئے گا، نوجوان طبقہ ایک دن صبر کرے گا، دوسرے دن کرے گا لیکن ایسا نہ ہو کہ کوئی اشتعال پیدا ہو جائے، اگر مسجد میں کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ مسجد کو سیل کر دیا جائے، اسی طرح جب امام بارگاہ کا نقصان ہوا ہے تو اس کی سکیورٹی بڑھا دی جانی چاہئے نہ کہ اسے بند کر دیا جائے۔

اسلام ٹائمز:گذشتہ دنوں نیٹو کی جانب سے پاکستانی فوج پر حملے پر قوم کا شدید ردعمل سامنے آیا، شیعہ عالم کی حیثیت سے آپ حکومت وقت کو کیا کہنا چاہیں گے۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ نے ہماری فوج پر جو حملہ کیا ہے وہ انتہائی ناقابل برداشت ہے، انہوں نے ایسا مارا ہے جیسے ہم ان کے غلام ہیں، ہم حکومت سے یہی کہیں گے کہ جب تک یہ امریکہ کی غلامی سے ملک کو نہیں نکالیں گے ہمارے ملک کے حالات نہیں سدھریں گے، اگر ہم اس غلامی سے نکل گئے تو ہم ایٹمی پاور ہیں، یہ امریکہ ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، ہزاروں میل دور بیٹھ کر وہ ہم پر کیا بمباری کرے گا، دوسری بات یہ کہ امریکہ کو خود احساس ہو گا کہ میں پاکستان نہیں بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہا ہوں۔ لیکن ہمارے حکمران خائف ہیں کہ اگر ہم امریکی غلامی سے نکل گئے تو پتہ نہیں ہمارا کیا حشر ہو گا، حشر تو وہ ہو گا جو اللہ تعالٰی چاہے گا، اس کے مقابلہ میں آپ ایران کو دیکھیں چھوٹا سا ایک ملک ہے، لیکن اس کے پاس ایمان کی طاقت ہے اور اس نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی ہوئی ہیں اور آج امریکہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اگر کوئی قوم ہے تو یہ ہے، ایران کوئی سپر پاور نہیں، لیکن پھر بھی امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران کو تنہا کر دیا جائے لیکن ایران کہہ رہا ہے کہ یہ تم آج کہہ رہے ہو ہم تمھیں سو سال بعد بھی سکھائیں گے امریکہ کیا ہے اور ایران کیا ہے، ایران والے آج بھی کہتے ہیں کہ امریکہ کی دشمنی بھی دشمنی ہے اور دوستی بھی دشمنی ہے۔

اسلام ٹائمز:پاکستان کے قبائلی علاقے عرصہ دراز سے عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، کیا آپ ان علاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف جاری آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:ایسے آپریشنز ہونے چاہیں، دہشتگرد جس علاقے میں جاتے ہیں چاہے وہ علاقہ غیر ہو یا سیٹل ایریا، وہاں آپریشن ہونے چاہیں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہتریں آپریشنز کرے، تاکہ یہ گند صاف ہو جائے، دہشتگردوں کی وجہ سے وہاں کی مقامی آبادی متاثر ہو رہی ہے، اگر حکومت صحیح آپریشنز کرے تو ایک نہ ایک دن ان سے جان چھوٹ جائے گی۔

اسلام ٹائمز:کرم ایجنسی میں حال ہی میں جو امن معاہدہ طے پایا ہے آپ اب تک اس کے نتائج سے کس حد تک مطمئن ہیں اور کیا آپ کے خیال میں یہ معاہدہ مستقبل میں بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔؟ علامہ علی سرور سرحدی:وہاں امن معاہدہ ہوا ہے اور شیعہ سنی نے بیٹھ کر دستخط کر دیئے ہیں، ی