8 دسمبر 2011 - 20:30

مصر کی اہم سیاسی ومذہبی جماعت اخوان المسلمین نے مصری فوج کی جانب سے قائم کی جانے والی نئی آئینی کونسل کی مخالفت کردی ہے اور فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نئے آئین کی تیاری کے معاملے پر منتخب پارلیمان کے اختیارات کو محدود کرنے کی سازش کررہی ہے۔مصری فوجی کونسل مصر میں امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔

ابنا: مصر کی اہم سیاسی ومذہبی جماعت اخوان المسلمین نے مصری فوج کی جانب سے قائم کی جانے والی نئی آئینی کونسل کی مخالفت کردی ہے اور فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نئے آئین کی تیاری کے معاملے پر منتخب پارلیمان کے اختیارات کو محدود کرنے کی سازش کررہی ہے۔مصری فوجی کونسل مصر میں امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔

مصری فوج جمعرات کو آئینی کونسل کے قیام کا اعلان کرنے والی تھی جس میں سیاستدان ، صدارتی امیدوار اور انقلابی تحریکوں کے نوجوانوں کے نمائندے شامل ہونا تھا۔ اخوان المسلمون کو خدشہ ہے کہ نئی کونسل کو آئین کی تیاری کے حوالے سے نئی پارلیمان کے اختیارات سونپ دیے جائیں گے اور دونوں اداروں کے درمیان مستقبل میں ٹکراؤ ہوسکتا ہے۔

اخوان المسلمون کے ایک رہنما نے کہا کہ پارلیمان کو محدود کرنے یا کسی اور غیر منتخب ادارے کو اس کے فرائض سونپنے کی کوشش دراصل عوام کی مرضی و منشا کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابات کے انعقاد کے باوجود مصر کی حقیقی حکمراں مسلح افواج کی سپریم کونسل نے ایسے اشارے دیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مجوزہ آئینی کونسل یااس طرح کے کسی غیر منتخب ادارے کے ذریعے اپنا اثرورسوخ برقراررکھنا چاہتی ہے۔ ........

/169