2 دسمبر 2011 - 20:30

عراق پر آٹھ سال تک جاري رہنے والے امريکہ کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کا آخري مرحلہ شروع ہو گيا ہے اور امريکہ کي سب سے اہم فوجي چھاؤني حکومت بغداد کے حوالے کر دي گئی۔

ابنا:  وکٹري چھاؤني ان آٹھ برسوں ميں امريکہ کا سب سے اہم فوجي ٹھکانا تھاـ بعض رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس چھاؤني ميں ايک لاکھ سے زائد امريکي موجود تھے جن ميں بياليس ہزار فوجي اور پينسٹھ ہزار امريکي ٹھيکيدار تھےـ وکٹري چھاؤني ميں امريکي فوجيوں کے متعدد کيمپ تھے - اس وسيع و عريض چھاؤني ميں ايک مصنوعي جھيل، نہروں کا نيٹ ورک اور صدام حسين کے کئي محل واقع تھےـ اس چھاؤني سے متعلق کاغذات حکومت بغداد کو سونپے جانے کے ساتھ ہي عراق سے امريکي فوجيوں کے انخلاء کي سمت ميں اہم ترين پيشرفت ہوئي ہےـ ابھي مزيد پانچ فوجي چھاؤنياں ايسي ہيں جنہيں اسي سال کے اختتام تک امريکہ کو عراقي حکومت کے حوالے کرنا ہےـ بعض رپورٹوں ميں بتايا جا رہا ہے کہ عراق ميں اس وقت صرف بارہ سے تيرہ ہزار امريکي فوجي باقي رہ گئے ہيں ـ عراق ميں امريکي فوجيوں کي تعداد ميں کمي اچھي اور خوش آئند خبر ہے ليکن ابھي سے امريکي فوجيوں کے انخلاء کے بعد عراق ميں پيش آنے والي ممکنہ صورت حال کے سلسلے ميں قياس آرائياں شروع ہو گئي ہيں ـ بعض سياسي حلقوں کا کہنا ہے کہ امريکہ نے عراق پر قبضہ کرنے کے فورا بعد ہي طويل الميعاد منصوبے تيار کر لئے تھے اور يہ بعيد لگتا ہے کہ وہ عراق کو پرسکون رہنے دےـ

 اس نقطہ نگاہ کي بنياد پر عراق ميں پھيلي بد امني غير متوقع نہيں ہےـ حاليہ دنوں ميں عراق ميں بد امني کے واقعات ميں تيزي سے شدت پيدا ہوئي ہےـ اس بات کا بھي انديشہ ہے کہ جيسے جيسے عراق سے امريکي فوجيوں کے انخلاء کے باقي رہ گئے دن گزرتے جائيں گے بد امني اور تخريبي کارروائيوں ميں تيزي آئے گي ـ عراق سے امريکي فوجيوں کے انخلاء کے بعد کے دور ميں ايک اور اہم مسئلہ ان دہشت گرد تنظيموں کا ہے جو عراق ميں سرگرم عمل ہيں ـ ايم کے او جيسي کئي دہشت گرد تنظيميں ہيں جنہيں عراق ميں امريکي فوجيوں کي موجودگي ميں خاص تحفظ حاصل تھاـ حکومت بغداد نے ايم کے او کو دسمبر کے اختتام تک کي مہلت دي ہے کہ وہ عراقي سرزمين سے نکل جائےـ

سن دو ہزار گيارہ کے اختتام ميں اب زيادہ وقت باقي نہيں بچا ہے اور عراق ميں ايک چوتھائي صدي کا طويل عرصہ گزار لينے کے بعد دہشت گرد تنظيم ايم کے او کو اس ملک سے نکلنا پڑے گاـ اب تک دنيا کے کسي بھي ملک نے ان دہشت گردوں کو جگہ دينے کي رضامندي ظاہر نہيں کي ہےـ برسلز ميں يورپي يونين کے وزرائے خارجہ کے اجلاس ميں بھي اس دہشت گرد تنظيم کي صورت حال پر تشويش کا اظہار کرنے پر ہي اکتفا کيا گيا اور اس دہشت گرد تنظيم کي حمايت کرنے والے يورپي ملکوں ميں کوئي بھي ملک اس تنظيم کو جگہ دينے پر تيار نہيں ہواـ سارا دباؤ بغداد حکومت پر ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ايم کے او کو عراق کي اشرف چھاؤني ميں باقي رہنے ہے۔........

/169