ابنا: اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفت گو میں نیٹو حملے کے ایشو پر جوابی کارروائی سے متعلق وزیر اعظم سے صحافیوں کے تند سوالات کا سامنا کرنا پڑا،ایک صحافی نے پوچھاکہ آرمی چیف کے جواب سے کیا ہم تصادم کی طرف نہیں جارہے، وزیراعظم نے کہاکہ ان کا خیال ہے کہ یہ اقدام اٹھاکر ہم اپنی ذمہ داری پورا کررہے ہیں، وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھاکہ حکومت کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن اسے جمہوری انداز میں کوئی غیر مستحکم نہیں کرسکا،ان کا کہناتھا کہ جمہوری حکومت کا برقرار رہنا ثابت کرتا ہے کہ یہاں پارلیمانی نظام مضبوط ہوچکا ہے، وزیراعظم گیلانی نے کہاکہ حکومت کو ہٹانے کے لئے مختلف حیلے بہانے کرنے والے سینیٹ انتخابات کو تاخیر کا شکار کرانا چاہتے ہیں، وزیراعظم نے کہاکہ یہ نظام آسانی سے نہیں بنا، بہت قربانیاں دی گئیں، یہ نظام قائم رہے گاان کا کہناتھا کہ پہلے سازشیں ہوتی تھیں تو لوگ پہلی سازش میں ہی چلے جاتے تھے،موجودہ حکومت اتحادیوں سے مل کر بنائی، یہ مقررہ مدت پورا کرے گی، وزیراعظم نے کہاکہ آئیندہ بھی پوری قوم ، میڈیا اور سول سوسائٹی، ملک میں جمہوری نظام کو سپورٹ کریں گے، وزیراعظم نے کئی سوالات کے جواب نہیں دئے،ان سے پوچھا گیاکہ امریکی سینیٹ نے فوجی امداد بند کردی ہے پاکستان کا کیاردعمل ہوگا وزیراعظم نے کہاکہ معاملہ دیکھ کر جواب دیں گے،عدلیہ کے احکامات ماننے کے سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ ان کی قانونی ٹیم جواب دے چکی ہے، امریکی حکام کی جانب سے بون کانفرنس میں شرکت سے انکار کو پاکستان کے خطے کی سلامتی میں عدم دلچسپی سے تعبیر کرنے کے سوال پر وزیراعظم نو کمنٹس کہہ کر خاموش ہوگئے۔ ........
/169