28 نومبر 2011 - 20:30

شیعہ علما ء کونسل صوبہ پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی نے کہا ہے کہ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے جب ملوکیت‘ بادشاہت‘ ظلم‘تسلط‘جبر‘ آمریت اور لادینیت کے خلاف قیام کا اعلان فرمایا تو آپ نے سلطنت میں بسنے والے تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے حیات سے وابستہ طبقات کو ایک مشن اور ایک راستے کی طرف متوجہ فرمایا اور انہیں دعوت دی کہ وہ بلاتفریق رنگ و نسل ‘ دین و مذہب‘ فرقہ و مسلک متحد ہوجائیں اور انفرادی مسائل و مفادات کو پس پشت ڈال کر اعلی و ارفع مقاصد کے حصول اور اجتماعی مسائل و مشکلات کے حل کے لئے جمع ہوجائیں اور حکومت سے لے کر معاشرے تک ہونے والی ہر بے اعتدالی اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کریں۔

ابنا: شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات سید اظہار نقوی کی طرف سے جاری کردہ پریس بیان کے مطابق محرم الحرام ۱۴۳۳ھ کے آغاز پر اپنے پیغام میں علامہ سید عبدالجلیل نقوی نے کہا کہ کربلا کے بعد سے اب تک دنیا کے ہر کونے میں بلاتفریق مذہب ونسل جہاں بھی ظلم کے خلاف قیام ہوا ہے وہاں قیام کرنے والے حریت پسندوں نے ہمیشہ کسی نہ کسی انداز اور کسی نہ کسی پہلوسے حضرت امام حسین(ع) کے قیام سے استفادہ کیا ہے چونکہ مسلمانوں کی وابستگی حضرت امام حسین (ع) سے والہانہ اور جذباتی و ورحانی حد تک ہے اس لئے ا تاریخ اسلام میں جب بھی کبھی آمریت‘ لادینیت‘ ظلم و جبر کے خلاف مقاومت‘ جہاد اور جدوجہد کا اعلان کیاگیا تو اسلامی تنظیموں‘ جماعتوں‘ لشکروں اور گروہوں نے حسینیت سے ضرور رہنمائی لی اور قیام امام حسین (ع) کے درخشاں پہلوؤں کو مشعل راہ بنایا۔ یہ امر جہاں قیام امام حسین (ع) کی حقانیت کو ثابت کرتا ہے وہاں یزید اور بعد میں آنے والے ہر دور کے یزید کی سفاکیت اور تسلط کا پردہ چاک کرتا ہے۔علامہ سید عبدالجلیل نقوی نے مزید کہا کہ ۶۱ ہجری میں یزید وقت نے اما م حسین(ع) اور ان کے جانثار آل و اصحاب کے خون سے ارض کربلا کو رنگین کیا اور آج یزیدان وقت کربلا و نجف اور کاظمین و بغداد سمیت وطن عزیز پاکستان میں بھی سید الشہداء حضرت امام حسین(ع) کے اجداد و اولاد کے مزارات تباہ اور ان کے پیروکاروں کو تہہ و تیغ کرنا چاہتے ہیں لہذا جس طرح امام عالی مقام نے قیام فرماکر اپنے خون کے ذریعے اسلام کو دائمی زندگی عطا کی تھی اس طرح عالم اسلام بالخصوص مسلم حکمرانوں اور اسلامی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی یزیدان عصر کے خلاف قیام کا اعلان کریں اور خون کے آخری قطرے تک اسلام و مسلمین اور افکار و آثار حسینی(ع) کا دفاع کریں۔شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر نے کہا کہ پاکستانی عوام میں جس طرح اتحاد و وحدت موجود ہے وہ ایک نعمت سے کم نہیں اس سے استفادہ کرنا پاکستان کے تمام طبقات کی اولین ذمہ داری ہے۔ بالخصوص سرکاری وحکومتی اداروں‘ دینی ومذہبی جماعتوں‘ سیاسی پارٹیوں‘ علماء کرام‘ مدارس ومساجد کے ذمہ داران‘ خطباء وذاکرین اور سماجی میدان میں کام کرنے والی تنظیموں کافریضہ ہے کہ وہ اپنی اپنی سطح پر اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے وحدت امت اور پاکستانی عوام کے درمیان بلاتفریق مذہب ومسلک اور فرقہ وگروہ کے اتحاد کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں جبکہ محرم الحرام کے ایام اس کارخیر کے لیے سب سے بہترین اور نایاب موقع ہیں۔ محرم الحرام سے شروع کی گئی وحدت کو اگر پورا سال اسی طرح جاری رکھا جائے تو وطن عزیز امن و آشتی کا فقط گہوارہ نہیں بلکہ منبع ومرکز بن سکتا ہے۔......

/169-110