27 نومبر 2011 - 20:30

صوابی … عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی کسی بھی قیمت پر بیرونی جارحیت قبول نہیں کرتی۔

ابنا: مہمند حملوں پر مذمت کی بجائے بات مزاحمت پر جانی چاہئیے۔ صوابی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی نے کہا کہ دہشت گرد حکومت کی رٹ تسلیم کر لیں تو مذاکرات کے لئے تیار ہیں تاہم یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جان قربان کر دیں گے لیکن نئی نسل کو دہشت گردی سے چھٹکارہ دلا کر رہیں گے۔ اے این پی کے قائد نے کہا کہ مرحوم ولی خان نے وصیت کی تھی کہ ہمیں شناخت ملنی چاہئیے ہم نے ان کی خواہش پوری کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم ابھی ابتداء ہے آنے والے دنوں میں صوبوں کو مزید خودمختاری ملے گی۔ کالا باغ ڈیم کی کہانی ختم ہو چکی۔ اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے ، لیکن یاد رکھیں کہ ملک کی بقا اور سالمیت جمہوریت سے مشروط ہے۔ جلسے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی، اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید اور خیبر پختونخوا کے صدر افراسیاب خٹک نے بھی خطاب کیا۔  ........

/169