26 نومبر 2011 - 20:30

شیعہ علما کونسل راولپنڈی کے صدر کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں اقتصادی ہیں جن کا مقصد ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے، امریکہ اور برطانیہ اس وقت ایران کیخلاف ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں تاہم ایران بھی اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ امریکہ ایران سے ہر محاذ پر شکست کھا چکا ہے۔

ابنا: علامہ اشفاق حسین وحیدی کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے اور اس وقت شیعہ علما کونسل راولپنڈی کے ضلعی صدر ہیں، آپ حوزہ علمیہ قم ایران سے فارغ التحصیل ہیں، قومی معاملات کے حوالے اہم ایشوز پر علامہ صاحب گاہے بگاہے اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے اُن سے ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر ایک اہم انٹرویو کیا ہے جو قارین کی خدمت پیش ہے۔ ادارہ

مولانا صاحب، ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، دہشتگردی، افراتفری اور عوام میں پھیلی بے یقینی کی صورتحال کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے اور اس کی وجوہات کیا سمجھتے ہیں؟علامہ اشفاق حسین وحیدی:اس وقت وطن عزیز کئی مسائل سے دوچار ہے جن میں دہشتگردی، شدت پسندی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سرفہرست ہے، مسائل کی فہرست بنائی جائے تو کئی مسائل سامنے آئیں گے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ملک سے شدت پسندی اور عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوجائے تو باقی مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے، اس وقت آپ دیکھیں کہ ملک کا کوئی ادارہ محفوظ نہیں ہے، فوج، پولیس اور سرکار ادارے ان میں سے کوئی بھی شدت پسندوں سے محفوظ نہیں، پولیس کی چوکیاں تباہ کی جارہی ہیں، بازاروں میں بم دھماکے جاری ہیں اور حتیٰ عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں، اس جنگ میں چالیس ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہیں، مساجد جہاں سے امن کا درس ملنے چاہیے تھا مگر افسوس وہاں سے بھی فرقہ پرستی اور تفرقے بازی کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، عوام کا جان و مال محفوظ نہیں رہا، حکومتی رٹ کہیں دکھائی نہیں دیتی، جو امن پسند ہیں انہیں برابر کرنے کیلئے فرقہ پرست لوگوں کے ساتھ کھڑا کردیا جاتا ہے۔ ہم اسلام ٹائمز کے تواسط سے یہ بات حکومتی ایوانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی ملک کے ساتھ مخلص ہیں تو خدارا اس مادرِ وطن کے بانی کہ جن کا لہو اس پاک مقدس سرزمین کے حصول میں بہا ہے ان کی اولادوں کو تحفظ فراہم کریں اور وہ جو پاکستان بننے کے مخالف تھے اور آج اس ملک کے بخرے کرنا چاہتے ہیں انہیں کیفرکردار تک پہنچائیں، اگر ایسا نہیں کریں گے تو وہ لوگ انہیں بھی نہیں چھوڑیں گے، یہ لوگ اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ آج لوگ ملک چھوڑ کر دوسرے ملکوں کا رخ کررہے ہیں ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیوںکہ یہاں امن نہیں ہے بزنس مین اس بے یقینی کی صورت میں سرمایہ کاری نہیں کرسکتا۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دہشتگردی سے جہاں قیمتی جانوں کا نقصان ہورہا ہے وہیں ملک معاشی ابتری کی صورتحال سے بھی دوچار ہورہا ہے۔

اسلام ٹائمز: اس صورتحال سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے؟۔علامہ اشفاق حسین وحیدی: جی بہت آسان ہے، اگر حکمران طبقہ اور ہمارے ریاستی ادارے مخلص ہوں تو کوئی چیز ناممکن نہیں، سب سے پہلے تو یہ طے کرلیں کہ شدت پسندی کسی طور پر بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، دوسرا یہ کہ جو بھی شدت پسند ہیں یا ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا، عدالتیں غیر ضروری کیسز سننے کی بجائے ایسے کیسز کو ترجیح کی بنا پر بغیر کسی طوالت اور ڈرخوف کے سماعت کریں اور فیصلہ دیں تو پھر آپ دیکھیں گے کس طرح ملک میں امن قائم ہوتا ہے۔ ظلم کی بات تو یہ ہے کہ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن ان عناصر کو قابو میں نہیں لایا جاسکا، جب عدالتیں ملک اسحاق جیسے قاتل دہشتگرد کو رہا کر دیں گی اور وہ شخص رہائی پاتے ہی یہ پیغام دے کہ وہ وہی کام کرے گا جو پہلے انجام دیتا رہا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اس دہشتگرد کی رہائی کے بعد پوری قوم نے دیکھا کہ اُس نے رہائی پانے کے بعد کیا نہیں کیا۔ پھر وہی کافر کافر کے نعرے بلند ہوئے، کئی جگہوں پر لڑائیاں ہوئیں، علی پور گھلواں میں دو سے زائد افراد قتل ہوئے، شیعہ افراد پر ناحق ایف آئی آر درج ہوئیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ن لیگ کی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرح کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) ان شدت پسند عناصر کیساتھ ملی ہوئی ہے؟۔علامہ اشفاق حسین وحیدی:یہ ایک تلخ حقیت ہے کہ پنجاب حکومت کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کالعدم تنظیموں کو مکمل سپورٹ کررہا ہے، اس پر صرف شیعہ افراد ہی نہیں بلکہ اہلسنت کی قیادت بھی متفق ہے، داتا دربار پر کس نے حملے کیا، کس نے ذمہ داری قبول کی، فیصل آباد میں میلاد کے جلوس میں کس نے ہنگامہ آرائی کی اور گولیاں چلائیں، کوئی ایک فرد بھی جیل میں گیا؟، جواب نفی میں ہے، اہلسنت کی 17تنظیموں کا اتحاد جسے سنی اتحاد کونسل کہتے ہیں اُس کی تمام قیادت اس بات پر متفق ہے کہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی ان تمام کارروائیوں میں ملوث ہے، اور یہ تمام کام پنجاب حکومت کی سرپرستی میں ہورہا ہے، ضلع جھنگ میں کالعدم تنظیم کے جلسے میں پوری قوم نے دیکھا کہ چند ووٹوں کی خاطر رانا ثناء اللہ وہاں پہنچ گیا، ن لیگ کو بجائے اس پر شرمندہ ہونے کے اور قوم سے معافی مانگنے کے اس پر ڈٹ گئی، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سنی اتحاد کونسل والوں نے راولپنڈی سے لاہور کی جانب لانگ مارچ کیا اور داتا دربار پر منعقدہ ایک بڑے اجتماع میں قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے رانا ثناء للہ کے استعفےٰ کا مطالبہ کیا مگر نواز حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

اسلام ٹائمز:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں نواز لیگ کو اس کا نقصان ہوگا؟۔علامہ اشفاق حسین وحیدی:جی ضرور نقصان ہوگا، نواز لیگ دیکھے گی کہ کس طرح وہ شکست فاش سے دوچار ہوتی ہے۔ اگلے الیکشن میں ن لیگ کیلئے پنجاب میں حکومت بنانا اتنا آسان نہیں ہوگا، سنی اتحاد کونسل کی مثال آپ کے سامنے ہے، شیعہ مکتب فکر کے لوگ پہلے ہی نواز لیگ کے رویے سے تنگ آچکے ہیں، کیا یہ لوگ ان شدت پسند عناصر کے ووٹوں سے ایوان میں پہنچیں گے ہرگز نہیں، قوم انہیں انتخابی پرچی کے ذریعے مسترد کرے گی، آپ نے دیکھا کہ کل بہاولپور میں نواز لیگ کے ایک امیدوار کو کس طرح شکست ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نواز شریف نے گزشتہ دودہائیوں کی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھا ہے تو وہ اپنا مؤقف واضح کریں گے اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی پارٹی سے نکال باہر کریں گے۔ انتخاب اب زیادہ دور نہیں ہے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

اسلام ٹائمز:ملک میں بیرونی مداخلت اور حالیہ نیٹو کے حملوں پر شیعہ علماء کونسل کا کیا ردعمل ہے؟۔علامہ اشفاق حسین وحیدی:ہم نیٹو اور ایساف کی جانب سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر بلااشتیال فائرنگ اور اُس کے نتیجے میں چوبیس شہادتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، شہداء کے خانوادوں سے اظہار ہمدردی اور تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ایسے افراد حکمران ہیں جو کھانا بھی امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں کھاتے، پارلیمنٹ میں قراردادیں تو پاس ہوتی ہیں مگر وہ محض کاغذ کے ٹکڑے اور ردی کی ٹوکری کا مقدر بنتی ہیں، قوم میں مایوسی کے بادل چھا چکے ہیں، اب وہ احتجاج بھی کرنا فضول سمجھتے ہیں کیوں ان لوگوں نے انہیں مایوس کردیا ہے، ان لوگوں کی عوام میں جڑیں ختم ہوچکی ہیں، ان نالائق لوگوں کا قبلہ واشنگٹن ہے، یہ لوگ کہتے تو ہیں کہ ہم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں مگر کوئی بھی کام امریکہ کی منشا کے بغیر انجام نہیں دیتے۔ وقتی طور پر قوم کو سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے سخت بیان بازی سننے کو ملتی ہے لیکن جب عمل کی بات آتی ہے تو انہیں اپنے مفادات خطر ے میں دکھائی دیتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ڈرون حملوں کیخلاف دو قراردادیں پاس ہوئیں کہ مگر کئی ماہ گزر گئے، قوم ان قراردادوں پر عمل ہوتے نہیں دیکھ سکی۔ دفاعی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پندرہ دنوں میں شمسی ائیربیس خالی کرائیں گے اب دیکھیں یہ جھوٹ کتنے دن مزید چلتا ہے یا پھر اس بار قومی غیرت جاگ جائے۔ اسی طرح دیگر مسائل میں امریکی مداخلت دیکھیں تو انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے، ایک طرف ہم دہشتگردی اور دیگر مسائل کے منجدھار میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں تو دوسری جانب ملک میں توانائی کے بحران نے ایک عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مہنگائی میں روز افزوں اضافے نے غریب کے چولہے کو ٹھنڈا کردیا ہے، توانائی کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے مگر اس کے بارے میں کوئی سوچ نہیں ملتی، قوم خوش تھی کہ پاک ایران گیس معاہدے سے گیس کا مسئلہ حل ہوجائے گا مگر وہ بھی بے یقینی کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ امریکی سفیر کے حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے اس کو یہاں کتنی اہمیت دی جاتی ہے، امریکی سفیر کا یہ بیان کہ پاکستان کو ایران سے گیس نہیں لینی چاہیے پاکستان کے معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ ایک سفیر کو اتنی جرات کہ وہ ہمیں بتائے گا کہ کیا ہمارے لیے بہتر ہے اور کیا نہیں، کیمرون منٹر نے سفارتی اداب کی دھجیاں اُڑا کے رکھ دیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جون تک نہیں رینگی۔ مجھے تو نیٹو ایشو پر دفتر خارجہ میں امریکی سفیر کی طلبی بھی ڈرامہ لگتی ہے۔

اسلام ٹائمز:ایران پر امریکہ کی جانب عائد کی جانیو الی پابندیوں کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟۔علامہ اشفاق حسین وحیدی: یہ پابندیاں اقتصادی ہیں جن کا مقصد ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے، امریکہ اور برطانیہ اس وقت ایران کیخلاف ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں تاہم ایران بھی اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ امریکہ ایران کے حوالے سے ہر محاذ پر شکست کھا چکا ہے، امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کیں ہیں تو ایران نے بھی علاقائی ممالک کیساتھ اپنے تعلقات اور تجارت کے فروغ پر توجہ دیئے ہوئے ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ایران کے اس وقت ترکی کیساتھ اچھے تعلقات استوار ہوچکے ہیں اور کئی تجارتی معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ ایران کی عراق، افغانستا ن اور شام کے حوالے پالیسی انتہائی کارگر ثابت ہوئی ہے۔ ایران کی خواہش ہے کہ اس کے پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھے اور گیس معاہدہ کامیاب ہو۔

اسلام ٹائمز:محرم الحرام شروع ہوچکا ہے، سیکیورٹی کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟۔علامہ اشفاق حسین وحیدی: جہاں تک حکومتی اقدامات پر اطمنان کی بات ہے تو اس کا دار ومدار مومنین کے اطمنان سے ہے۔ ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہروں سمیت دیہاتوں میں بھی شدت پسند عناصر پر نظر رکھیں اور حساس علاقوں میں مجالس عزا پر پابندی یا محدود کرنے کی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے سیکورٹی فراہم کریں۔ عزاداری سید الشہداء ہماری شہ رگ حیات ہے جسے کسی قیمت پر ترک یا محدود نہیں کریں گے۔ پاکستان کے آئین میں تمام مکاتب فکر کو عبادت کرنے کی آزادی ہے۔ اس لیئے ہم ایسے کسی ہتھکنڈے کو تسلیم نہیں کریں گے جس کا مقصد عزاداری کو محدود کرنا ہو یا روکنا مقصود ہو۔ یہ عزاداری چودہ صدیوں سے جاری و ساری ہے اور انشاء اللہ جاری رہے گی۔ وہ لوگ جو ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر عزاداری کو امام بارگاہوں تک محدود کرنے کی باتیں کرتے ہیں انہیں معلوم ہوجانا چاہیے