26 نومبر 2011 - 20:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے نیٹو کی افواج کی جارحیت اور پاک فوج کے اٹھائیس جوانوں کی شہادت پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم اس جارحیت پر ہرگز خاموش نہ رہے، حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے مزید مزید کتنے حملوں کی ضرورت ہے۔؟

ابنا:  انہوں نے کہا کہ نیٹو کی جارحیت اور ہیلی کاپٹروں کا اٹیک، در حقیقت اس ناپاک منصوبے کا حصہ ہے جو وطن عزیز کے لئے عالمی استعماری قوتوں نے سوچا ہوا ہے، حکومت کی جانب سے فقط مذمتی بیان ہرگز کافی نہیں، بلکہ انہیں امریکہ سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنا ہوں گے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ یہ حملہ ان افراد کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے جو امریکی کی دوستی کی باتیں کر رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ امریکی سفیر کو ملک بدر کرے اور ملک میں امریکی بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف عمل اقدامات کرے، عوام امریکہ کے ان بزدلانہ اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور سراپا احتجاج بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج عوام مقتدر حلقوں سے یہ سوال کرتی ہے کہ ہم آخر کب تک امریکی غلامی کا طوق گلے میں ڈالیں رہیں گے۔ یاد رکھیں جتنی دیر سے اس غلامی کے طوق کو ہم گلے سے اتارینگے، اتنا ہی بڑا نقصان ہم اٹھاینگے۔ دریں اثنا مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ امین شہید ی نے ہیلی کاپٹر حملہ کو ملکی سالمیت پر حملہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوس ناک ہے کہ پاک فوج کے جوں امریکہ کہ خاطر بھی شہید ہو رہے ہیں اور امریکہ بھی انہیں ہی شہید کر رہے ہیں ، اب ہمارے حکمرانوں کے پاس امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ فی الفور ہر قسم کے تعلقات ختم کیے جائیں ۔........

/169