ابنا: لیون پنیٹا فوجی اخراجات میں کٹوتی کے مجوزہ منصوبے کو پینٹا گون کیلئے قیامت قرار دے چکے ہیں۔ واشنگٹن میں دفاعی کٹوتیوں پر طویل ترین میدان سجنے جا رہا ہے، ہنگامی حالات میں جنگی اخراجات پر اثرات نہیں پڑیں گے۔ پینٹاگون ایف 35، نیول پٹرول ایئر کرافٹ اور جنگی جہازوں کی خریداری کے منصوبوں کو ترک کرسکتا ہے۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق سپر کمیٹی کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی اس امکان کو ظاہر کرتی ہے جس کا اشارہ وزیر دفاع لیون پنیٹا نے پینٹاگون کیلئے قیامت کا منظر قرار دیا تھا۔ دفاعی حکام اور بجٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص دفاعی اشیاء کی کٹوتی پر طویل لڑائی کیلئے واشنگٹن میں اسٹیج سج چکا ہے۔ پینٹا گون کچھ ایسی تخلیقی اکاوٴنٹنگ کی مدد سے دفاعی کٹوتی کے اثرات کو نرم کر سکتا ہے تاہم ہنگامی حا لات میں جنگی اخراجات پر ان فوجی اخراجات کی کٹوتی کے اثرات نہیں پڑیں گے۔ سینیٹرز پہلے ہی مالی سال 2012 ء کیلئے بنیادی دفاعی بجٹ کے دس ارب ڈالر کو جنگی بجٹ میں منتقل کرچکے ہیں۔ پینٹاگون حکام نے اس سلسلے میں کمیٹی کے کسی نتیجے پر نہ پہنچنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ پینٹاگون پہلے ہی اضافی 500 سے 600 بلین ڈالر خودکار کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر دفاعی اخراجات میں کمی پر عمل شروع ہوجاتا ہے تو دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک ہائی پروفائل ہتھیاروں کے پروگراموں کی ایک بڑی تعداد کو ختم کرنا پڑسکتا ہے۔ لیون پنیٹا اشارہ دے چکے ہیں کہ پینٹاگون ایف 35جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر، نیول پٹرول ائرکرافٹ اور جنگی جہازوں کی خریداری کے منصوبوں کو ترک کردیں گے۔
...........
/169