16 نومبر 2011 - 20:30

جائے وقوعہ سے پولیس کو 3 خودکش جیکٹس، متعدد دستی بم، پینسل بم، ڈیٹونیٹر، 5 کلاشنکوفیں، درجنوں گولیاں، کیمیکلز، ایک برقعہ، ایک لیڈیز وگ اور دیگر اشیاء بھی ملیں، تاہم دہشت گردوں کے زیر استعمال ہائی روف کے پرخچے اڑ گئے اور اس کے پرزے دور دور تک بکھر گئے۔

ابنا: ڈیفنس میں سی ویو پر ہائی روف میں گھومنے والے دہشتگردوں نے فرار کی راہ نہ پا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 2 پولیس کانسٹیبل شہید اور 5 دہشتگرد مارے گئے جبکہ دہشتگردوں کے زیر استعمال ہائی روف کے پرخچے اڑ گئے، جائے وقوع سے پولیس کو 3 خودکش جیکٹس، متعدد دستی بم، پینسل بم، 5 کلاشنکوفیں، ڈیٹونیٹر، درجنوں گولیاں، کیمیکل، ایک برقعہ، ایک لیڈیز وگ، نائٹ ویژن گوگلز اور دیگر اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس سے ڈیفنس کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایدھی، چھیپا اور کے کے ایف کی ایمبولینسز اور رضا کار جائے وقوع پر پہنچنا شروع ہو گئے جنہیں اندھیرا ہونے کے سبب امدادی سرگرمیوں میں دقت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دھماکے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، وزیر داخلہ منظور حسین وسان، کراچی پولیس کے سربراہ غلام شبیر شیخ، ڈی آئی جی ساؤتھ کمانڈر (ر) شوکت علی، پولیس اور رینجرز کے اعلٰی حکام اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچی، سیکورٹی فورسز نے جائے وقوع کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جائے وقوع کے قریب نہیں جانے دیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ کمانڈر (ر) شوکت علی کے مطابق بدھ کی شب تھانہ درخشاں کی حدود ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز ۔VIII، خیابان اتحاد، ولیج ریسٹورنٹ کے قریب موٹر سائیکل گشت پر مامور پولیس والوں نے ایک مشکوک ہائی روف کو روکنے کی کوشش کی، مگر اس میں سوار افراد نے گاڑی روکنے کی بجائے فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر پولیس والوں نے اس کا تعاقب کیا، اسی دوران ہائی روف کا ڈرائیور گاڑی کو ولیج کے عقب میں ایک زیر تعمیر پارک کی طرف لے گیا، جہاں آگے ساحل سمندر پر تعمیر دیوار اس کے سامنے آگئی اور راستہ مسدود ہو گیا، اس صورتحال میں فرار کا راستہ نہ پا کر ہائی روف سے ایک خودکش حملہ آور نیچے اترا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، اس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار مزید 4 دہشتگرد بھی ہلاک ہو گئے، جنہوں نے خودکش جیکٹس نہیں پہنی تھیں، جبکہ دھماکا خیز مواد لگنے سے ہائی روف کے تعاقب میں جانیوالے دو سپاہیوں میں سے ایک سپاہی مولا بخش موقع پر شہید اور دوسرا ممریز خان شدید زخمی ہو گیا جسے جناح اسپتال پہنچایا، جہاں بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بھی شہید ہو گیا۔بشکریہ از اسلام ٹائمز

ابنا کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق کل کو ہونے والے دھماکے کے بارے میں دو قسم کی رائے قائم کی گئی ہے:

1۔ آج جمعرات کو حسنی امامزادہ حضرت سید عبداللہ شاہ غازی کا عرس منایا جانے والا تھا اور گذشتہ سال بھی ان ہی ایام میں ان کے مزار پر دو دھماکے ہوئے تھے چنانچہ ممکن ہے کہ دہشت گردوں کا نشانہ ایک بار پھر عرس میں شریک مسلم اور غیر مسلم زائرین رہے ہوں۔

2۔ محرم الحرام کی آمد آمد کے پیش نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ محرم الحرام میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی تیاری کے سلسلے میں اپنا مہلک سازو سامان کسی ٹھکانے پر منتقل کرنا چاہتے تھے جس میں دو بہادر سپاہیوں کی قربانی کی وجہ سے ان کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110