ابنا: محسن پاک آئين نے فارس نیوز سے گفتگو میں مغربی اور مرکزی ایشیاء میں نئی شاہراہ ابریشم قائم کرنے کےبارے میں امریکی وزیرخارجہ کے بیان کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا کہ شاہراہ ابرایشم ایک تاریخی راستہ ہے جو معین جغرافیائي حدود میں واقع ہے اور گذشتہ صدیوں سے ایشیا کے جنوبی اور مرکزی علاقوں کو متصل کرتاآیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ ابریشم چین سے شروع ہوکر ہندوستان، مرکزی ایشیا، پاکستان، ایران عراق اور خلیج فارس کے بعض ملکوں نیز ترکی سے ہوتے ہوئے ایران کو یورپ سے متصل کرتاتھا اور ایران اس شاہراہ میں کلیدی کردار کاحامل تھا اور مرکزی ایشیا، قفقاز اور خلیج فارس کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپی ملکوں کی جانب سے نئي شاہراہ ابریشم بنانے کی بات جن کا اس جغرافیہ سے کسی طرح کا واسطہ نہیں ہے ناقابل قبول ہے اور اس سے علاقے میں تسلط پسندوں کی مداخلت ظاہر ہوتی ہے۔.......
/169