2 نومبر 2011 - 20:30

رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے 4 نومبر (استکبار کے خلاف جہاد کے دن) کی آمد آمد پر ہزاروں طلبہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے پاس ایران اور خطے میں دہشت گردی اور دہشت گردانہ واقعات کی امریکی سرپرستی کے سلسلے میں ایک سو ناقابل تردید دستاویزات ہیں جن کے ذریعے ہم امریکہ کو رسوا کردیں گے۔

اہل البیب (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج (بدھ 2 نومبر 2011) ہزاروں پرجوش طلبہ نے استکبار کے خلاف یوم جہاد (4 نومبر) کی آمد پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی اور امام خامنہ ای نے 4 اکتوبر کے دن کو انقلاب اسلامی کی اہم عبرت قرار دیا جو اللہ کی قدرت پر توکل اور ہدف کے راستے میں بصیرت کا ثمرہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ملت ایران گذشتہ 32 سال کے عرصے میں تمام چیلنجوں سے سربلند ہوکر عہدہ برآ ہوئی ہے اور اس ملت نے اس عرصے میں بیش بہاء ترقی کی ہے اور مستقبل میں بھی قطعی طور پر یہ ملت اپنے لئے درپیش چیلنجوں سے سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہوگی۔آپ نے فرمایا:  [امریکی جاسوسخانے کی تسخیر کا دن] تیرہ آبان (4 نومبر) حقیقتا یوم اللہ ہے اور اسلامی انقلاب کی تاریخ میں اس طرح کے اہم اور قیمتی اور درخشان مواقع آگے کی جانب حرکت کے لئے راستے کی صحیح شناخت اور حقیقت پسندانہ تحلیل و تجزیئے کی بنیاد پر مستقبل کے لئے منصوبہ بندی ان ہی تاریخی عبرتوں میں سے ایک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خطاب کا مکمل متن:‌

بسم‌الله‌الرّحمن‌الرّحيم‌

خوش آمدید عرض کرتا ہوں آپ سب عزیز نوجوانوں، اسکولوں اور جامعات کے طلبہ اور محترم ذمہ دار شخصیات کو، مبارک باد عرض کرتا ہوں تیرہ آبان (4 نومبر) کے سلسلے میں جس کا نام "استکبار کے خلاف جدوجہد کا دن" رکھا گیا ہے؛ حقیقت میں کہنا یوں چاہئے کہ یہ دن امریکہ کی استکباری ہیبت کے زوال کے آغاز کا دن ہے۔یہ ایام عشری ذی الحجہ کے ایام ہیں۔ آپ عزیز نوجوان، نورانی دل اور شاداب حوصلوں کے ساتھ، میرے عزیز فرزندو، توجہ رکھیں کہ فضیلت اور اللہ کے ساتھ رابطے کے امکان کے حوالے سے سال کے بہترین دنوں اور راتوں میں سے یہی دن اور یہی راتیں ہیں۔ خداوند قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: «وَ يَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُوماتٍ‏» (1) حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ایام معلومات سے مراد جن میں اللہ تعالی نے ذکر کا حکم دیا ہے، یہی ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔ ان دس دنوں میں روز عرفہ بھی شامل ہے جو دعا اور استغفار اور توجہ کا دن ہے۔ روز عرفہ میں عشق اور جوش اور سوز سے بھرپور دعا، جو سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام نے عرفات کے مراسمات میں انشاء فرمایا ہے، شیدائی، عشق اور جوش و خروش کے جذبے کی غماز ہے جو اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کو ان دنوں میں اپنانا چاہئے۔ ان دنوں کی قدر و قیمت جان لیں۔ مواقع آپ کے لئے ہیں۔ جس طرح کہ آج ترقی کا موقع، پلنے پھولنے کا موقع، عظیم سیاسی اور انقلابی اور معاشرتی اقدامات کا موقع،  آپ نوجوانوں کو میسر ہے، خدا کی طرف توجہ اور ذکر الہی کا موقع اور اللہ کے ساتھ قلبی رابطہ مستحکم کرنے کا موقع بھی آپ ہی کا ہے۔ وہ بہترین وسیلہ جو ذکر الہی کو ہمارے اور آپ کے لئے زندہ کرسکتا ہے، ترک گناہ ہے۔ یہ کام سن رسیدہ لوگوں کی نسبت آپ کے لئے زیادہ آسان ہے۔ آپ نوجوان نورانی دلوں کے مالک ہیں، آپ کے پاس تیار زمین اور تیار پس منظر ہے؛ خدا سے مدد مانگیں، نوجوانی کے اس تابندہ دور کی قدر جانیں، خدا کے ساتھ اپنا رابطہ مستحکم کریں اور جس افتخار آمیز راستے کا ملت ایران نے آغاز کیا ہے اور آج آپ اس کے نقطہ عروج پر پر کھڑے ہیں، انشاء اللہ اپنے پورے وجود اور پوری ہستی سے، اپنی پوری طاقت سے اس کو جاری رکھیں اور آگے بڑھیں۔تیرہ آبان (4 نومبر) ـ  جو دو روز بعد ہے ـ حقیقی معنوں میں ایام اللہ میں سے ایک ہے؛ ایک موقع ہے فکر کرنے، سوچنے اور نتیجہ لینے کے لئے اور اسی نتیجے کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر اور مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کرنے اور پروگرام مرتب کرنے کا؛ کیونکہ مستقبل آپ کا ہے۔ ہم کس طرح حرکت کریں کہ اپنے آپ کو، اپنی ملت اور اپنے ملک کو، اپنی تاریخ کو بلکہ امت اسلامی کو عروج کی چوٹیوں پر پہنچاسکیں؟ راستہ کیا اور کونسا ہے؟ یہ سب ان عبرتوں میں غور و تدبر کرکے ڈھونڈنا اور پانا چاہئے۔ ان عبرتوں میں س ایک عبرت اسی 4 نومبر میں ہی ہے۔ خدا کی قدرت ایک طرف سے ـ جبکہ سب کچھ اسی "قدرت الہیہ" کے ضمن میں مندرج ہے ـ اور دوسری طرف سے جدوجہد کا ارادہ اور جدوجہد کے راستے میں استقامت کا عزم، جو اللہ کی قدرت اور اس کی توفیق پر استوار ہے، اور ان ہی دو چیزوں نے 4 نومبر کو عظیم اور ممتاز بنا رکھا ہے۔ہمارے امام عزیز رحمۃ اللہ علیہ، ہماری تاریخ کے وہ یگانہ روزگار مرد، کیپیچولیشن (Capitulation) اور امریکیوں کے استثنی کے منصوبے کے مد مقابل کھڑے ہوگئے جبکہ اس زمانے میں امریکی ہمارے ملک میں سیاہ و سفید کے مالک تھے، اور امام رحمۃ اللہ علیہ اسی اعتراض و احتجاج کی بنا پر 4 اکتوبر 1964 کو تنہائی اور غریب الوطنی کی حالت میں امریکہ کے نوکروں کے ہاتھوں جلاوطن کئے گئے۔ اس روز اس جلاوطنی کے وقت کوئی بھی امام رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ نہ تھا۔ البتہ لوگوں کے دل امام رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھے؛ انھوں نے امام کو ان کے گھر سے اغوا کیا اور مکمل تنہائی اور غریب الوطنی کی حالت میں 4 نومبر 1964 کو جلاوطن کئے گئے۔ پندرہ سال بعد نوجوان اور انقلابی طلبہ نے امریکی جاسوسی کے گھونسلے کو تسخیرکرکے امریکہ کو ایران سے جلاوطن کردیا۔  دیکھ لیں کہ اللہ کے ارادے اور اس کی قدرت کے سہارے عوامی حرکت کیا کچھ کرکے دکھاتی ہے۔ امام رحمۃ اللہ علیہ نے غریب الوطنی اور جلاوطنی میں استقامت کی، استقامت کی انتہا کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن رہے اور لوگوں کو رفتہ رفتہ اور قدم بقدم میدان میں اتارا۔ امام رحمۃ اللہ علیہ نے لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا؛ لوگوں میں استقلال، مجاہدت اور محنت کی بنیاد پر معقول مثالیت پسندی کے جذبے کو ـ جس میں خوف و ہراس کی کوئی گنجائش نہیں ـ زندہ کردیا۔ لوگ میدان میں آئے اور انقلاب کامیاب ہوگیا۔ عوام نے انقلاب میں شاہ کو ایران سے مار بھگایا؛ 4 نومبر کے دن امریکہ کو ایران سے مار بھگایا، لہذا امام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: پہلے انقلاب سے کہیں بڑا انقلاب۔ یہ ایک عبرت ہے۔ یعنی ایک قوم جب ایک صحیح راستے پر صحیح راہنمائی اور بصیرت کے ساتھ ڈٹ جاتی ہے اور استقامت کرتی ہے، کوئی بھی طاقت اس کے سامنے مزاحمت کی قوت نہیں رکھتی۔ تمام رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ یہ مسئلہ محال اور ناممکن دکھائی دے رہا تھا، 2500 سالہ بادشاہت کی بساط، جس کو دنیا کی تمام طاقتوں کی حمایت حاصل تھی، ایران سے لپیٹ دی جائے؟ یہ کیا قابل یقین تھا؟ لیکن امام رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں ملت ایران کے اسلامی اور ایمانی عزم نے اس ناممکن کو ممکن کردیا، یہ امر محال ممکن ہوگیا اور وقوع پذیر ہوا۔ اس کو سب نے اپنی آنکھوں سے وضوح کے ساتھ دیکھ لیا اور محسوس کیا۔ اور اس سے بھی بالاتر یہ کہ امریکہ کا ظالمانہ اور متکبرانہ پرچم ایران کی چھت سے اتار دیا گیا اور نوجوانوں کے پیروں تلے روندا گیا۔ یہ بھی ناممکن دکھائی دے رہا تھا، یہ بھی محال دکھائی دے رہا تھا، تجزیہ کرنے والے تجزیہ کیا کرتے تھے اور کہتے اور لکھتے تھے کہ چونکہ اسلامی ایران امریکہ کے مد مقابل آکھڑا ہوا ہے پس قطعی طور پر شکست ہی اس کا مقدر ہے اور یہ ملک آخر کار پسپا ہوجائے گا۔ مادی تبصروں اور تجزیوں میں یہی خیال ظاہر کیا جارہا تھا اور یہی کہا جارہا تھا۔ ہمارے کئی نام نہاد منور الفکر دانشور بھی، جو اپنے آپ کو سیاسی تبصرے کا اہل اور مسائل کا تجزیہ کرکے ان سے نتیجہ لینے کا ماہر سمجھتے تھے، اسی طرح تجزیہ کررہے تھے لیکن اس کے برعکس اسلام کامیاب ہوگیا، اسلامی جمہوریہ ایران کو فتح نصیب ہوئی امریکہ کو پسپا ہونا پڑا۔ اس زمانے سے آج تک 32 سال ہورہے ہیں۔ عزیز نوجوانو! ان 32 برسوں کوئی بھی ایسا سال نہیں گذرا ہے کہ امریکہ اور عالمی صہیونیت کی سرکردگی میں استکبار کی طرف سے ملت ایران کو شکست دینے کی غرض سے، انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام کو شکست دینے کی غرض سے ایران کے خلاف کوئی سازش یا کئی سازشیں نہ ہوئی ہوں اور اللہ کے فضل اور اللہ کے حول و قوت اور ہمارے عزيز عوام کی ہمت و عزم کی برکت سے، اور ہر دور میں ہمارے عزیز نوجوانوں کی پیشقدمی کی برکت سے اسلامی ایران ان تمام سازشوں میں کامیاب ہوگیا اور امریکہ کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا۔ صحیح تبصرہ یہی ہے۔ مستقبل کی جانب درست نگاہ یہی ہے۔ آپ کے سامنے انشاء اللہ 50 سال، ساٹھ سال، ستر سال عمر پڑی ہے۔ اللہ تعالی اپنی برکت و رحمت اور فضل سے آپ کو طول عمر عطا فرمائے، اس طویل عمر کے لئے آپ کو منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ منصوبہ بندی کی بنیاد یہ ہے: فیصلہ اور ارادہ کریں، ہدف کا درست انتخاب کریں اور اس ہدف کے حصول کے لئے استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں؛ اس صورت میں کوئی بھی طاقت آپ کے سامنے ڈٹ جانے کی تاب نہیں لاسکتی۔ آپ کے اہداف و مقاصد علمی و سائنسی شعبوں میں، معاشی شعبوں میں، معاشرتی شعبوں میں، اخلاق کے شعبے میں، دنیا میں اسلامی تفکر اور اسلامی بیداری کو فروغ دینے کے شعبے میں ہیں؛ یہ آپ کی عظیم خواہشیں اور عظیم آرزوئیں ہیں۔ راستہ صرف یہی ہے۔ درست تشخیص دیں، قطعی ارادہ کریں، اٹھ کر حرکت کریں، روانہ ہوجائیں، خدائے متعال پر تکیہ اور اعتماد کریں؛ یقینا نتیجے تک پہنچیں گے۔ آپ کا دشمن جو کوئی بھی ہو، جو چیز بھی ہو، دنیا میں طاقت کے جس حجم کا حامل بھی ہو، پسپائی پر مجبور ہوجائے گا؛ جس طرح کہ انقلاب کے قضیئے میں، 13 آبان (4 نومبر 1979) کے قضیئے میں، مسلط کردہ جنگ کے قضایا میں، معاشی ناکہ بندی کے قضیئے میں اور تمام سازشوں میں آج تک، ایسا ہی تھا۔ہمارے ہاتھ پر ہیں۔ ہمارے پاس صحیح فکر ہے۔ اسلامی جمہوریہ نے ایک نیا سیاسی فکری مکتب دنیا کے سامنے رکھا ہے؛ دینی جمہوریت، یہ نیا سیاسی فکری مکتب ایک صحیح فلسفے پر استوار ہے، مضبوط اعتقادی اور فکری پس منظر پر استوار ہے اور عملی لحاظ سے قابل نفاذ اور آگے کے طرف بڑھنے والا [مکتب] ہے۔ یہ فکر، یہ راستہ، یہ فلسفہ اور یہ تجربہ اس بتیس سالہ عرصے کے دوران ملت ایران کے پاس ہے اور اس نے ہمارے ہاتھ کو پر کردیا ہے۔ دشمن اپنی کوششوں میں مصروف ہے اور ایسا ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے کہ دشمن اپنا کوششوں سے ہاتھ کھینچ لے گا؛ نہیں، آپ دیکھ رہے ہیں ان ہی دنوں میں امریکہ کی شدید مشکلات اور ناہمواریوں کے دوران، نیویارک میں وال اسٹریٹ کی وسیع تحریک میں، امریکی انتظامیہ کو خیال آیا کہ اپنے وہم میں اور اپنے بقول، ایک نیا کارڈ کھیلے۔ انھوں نے دہشت گردی کا ایک مضحکہ خیز منظرنامہ تیار کیا جس کے ذریعے وہ اسلامی جمہوریہ پر دہشت گردی کے ایک مہمل اور بے معنی، مہمل، نا معقول اور غلط اقدام کا الزام دھر سکے؛ جس کو دنیا کے ہر اہل فن و نظر نے دیکھا، اس کو مسترد کیا اور اس کی مذمت کی۔ وہ اب ان چیزوں کا سہارا لے رہے ہیں اس خیال سے کہ شاید اپنے آپ کو ان دشواریوں سے نجات دلائیں، ان پر اثر انداز ہوجائیں اور رائے عامہ کی توجہ کو ان مسائل سے ہٹادیں؛ شاید اس طرح اسلامی جمہوریہ پر دباؤ بڑھا سکیں۔ البتہ وہ اس مسئلے کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں شریف ترین اور مبارز اور مجاہد عناصر