31 اکتوبر 2011 - 20:30

اسلام آباد… سپریم کورٹ نے رینٹل پاور منصوبوں کے مقدمہ کی آج بھی سماعت کی ، اس دوران عدالتی بنچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس دیئے کہ کوئی غیرقانونی کام اگر کابینہ منظور کرے تو بھی وہ قانونی نہیں بن سکتا۔

ابنا: چیف جسٹس افتخار چودھری کی زیر صدارت سپریم کورٹ کے بنچ نے رینٹل پاور کیس کی سماعت کی تو والٹرز پاور کے وکیل شاہدحامد نے دلائل دیئے، انہوں نے کہاکہ نوڈیرو ون اور ٹو ، رینٹل کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ ان رینٹل منصوبوں میں بظاہر پیپرا قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ، جومنصوبے بغیر اشتہار دئے ، بنائے گئے وہ شفاف نہیں ہوسکتے، انہوں نے کہاکہ منصوبوں میں شفافیت نہ ہوئی تو رینٹل منصوبے کالعدم قرار دئے جاسکتے ہیں ۔
...........

/169