ابنا: اس بیان میں ، کہ جس پر سعودی عرب میں سیاسی اور سماجی حقوق کے لۓ کام کرنے والے اکانوے افراد نے دستخط کۓ ہیں، یہ مطالبہ بھی کیا گيا ہے کہ اس ملک کی سیاسی شخصیات پر ملک سے باہر جانے کی پابندی ختم کی جاۓ۔ واضح رہے کہ خطے میں انقلابی تحریکوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے ماحول کے پیش نظر سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں اپنے تشدد میں شدت پیدا کردی ہے۔ اب سعودی عرب میں سیاسی ، سماجی اور شہری حقوق کے لۓ سرگرم افراد کو کھلے بندوں گرفتار کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ یہ ہےکہ سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی نے میدان سیاست میں سرگرم چار افراد کو ملک میں غربت کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری فلم تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ کچھ مہینے قبل بھی سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز نے پانچ افراد کو ملک میں ایک سیاسی جماعت کی تشکیل کے جرم میں گرفتار کر لیا تھا۔ جس کے خلاف ہیومن رائٹس واچ نے شدید رد عمل بھی ظاہر کیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطی کے امور کے ماہر کریسٹوفر ویلکی نے کہا ہےکہ سعودی حکام بہت وسیع پیمانے پر ملک میں سیاسی سرگرمیوں کو کچل رہے ہیں۔ سعودی عرب کے حکام ایسی حالت میں سیاسی سرگرمیوں کو کچلنے میں مصروف ہیں کہ جب مختلف عرب ممالک کے عوام سڑکوں پر آکر زیادہ آزادی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ لیکن سعودی عرب کی خفیہ پولیس ملک میں اٹھنے والی تمام آوازوں کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ سعودی عرب کے گیارہ قانون دانوں اور پروفیسروں نے سنہ دو ہزار نو میں شہری اور سیاسی حقوق کی ایک تنظیم قائم کی تھی ۔ اس تنظیم نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہےکہ اس ملک کی سیکورٹی فورسز اب تک سیکڑوں سیاسی کارکنوں کو بغیر کسی مقدمے کے جیلوں میں بھیج چکی ہیں۔راصد ویب سائٹ سمیت بہت سی خبر رساں ایجنسیوں نے کہا ہے کہ اس وقت سعودی عرب میں تقریبا تیس ہزار سیاسی قیدی ہیں۔ سعودی عرب کے سول اور سیاسی حقوق کی ایک انجمن نے وزارت داخلہ کوایک خط ارسال کر کے اس ملک کے حکام سے مطالبہ کیا ہےکہ سیاسی قیدیوں کو ان کے جرم سے آگاہ کرے۔ سعودی عرب کے سیاسی نظام میں موجود بعض انتہا پسند گروہ گرفتار ہونے والے افراد کو قانون کی تحویل میں دینے اور ان کے لۓ وکیل فراہم کرنے کے بجاۓ ان کا جرم ثابت ہوۓ بغیر خود ہی ان کے بارے میں فیصلہ سنا دیتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے حکام ایسی صورتحال میں گرفتار ہونے والوں پر دہشتگردی کی حمایت کرنے کا الزام لگا دیتے ہیں ۔ اور اس کے بعد وہ ان قیدیوں کے ساتھ ہر طرح کے رویۓ کو اپنے لۓ جائز سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال اس وقت بہت ہی سنگین ہے۔ برطانیہ کے اسلامی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوۓ کہا ہے کہ عالمی برادری کو اپنی طویل خاموشی ختم کر کے سعودی عرب میں مخالفین کی آواز کو دبانے اور سیاسی قیدیوں کی ابتر صورتحال کے سلسلے میں اس ملک کے حکمرانوں سے حساب لینا چاہۓ۔
...........
/169