ابنا: آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے اور اسلامی ممالک میں دوسرے بڑے ملک پاکستان کے 18 کروڑ سے زائد افراد میں 7 کروڑ 39 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ مہنگائی، بیروزگاری اور قدرتی آفات کے باعث بھی لاکھوں پاکستانی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ پاکستانی آبادی، مہنگائی اور بیروزگاری سمیت مختلف معاملات پہ کام کرنے والے وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق 2008 سے 2011 تک پاکستان میں غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے گزشتہ تین سالوں کے اندر ملک میں غریبوں کی تعداد بڑھ کر 7 کروڑ 39 لاکھ ہوچکی ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے 3 سالوں کے دوران غریب افراد کی تعداد میں 2 کروڑ 86 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے، 25 مارچ 2008 سے پہلے پاکستان میں غریب افراد کی تعداد 4 کروڑ 78 لاکھ سے زائد تھی جو موجودہ حکومت کے دور میں بڑھ کر 7 کروڑ 39 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ایٹمی طاقت کے حامل ملک پاکستان کی کل آبادی کا 41.2 فیصد حصہ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہا ہے جب کہ ملک میں یومیہ سینکڑوں افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد میں شامل ہو رہے ہیں، عالمی سطح پر مہنگائی اور بیروزگاری بڑھنے سے پاکستان میں بھی تاریخی مہنگائی سے لاکھوں لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔اقتصادی ماہرین کے مطابق توانائی کے بحران، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے اور قدرتی آفات سے پاکستان کی معیشت بری طرح تباہ ہوئی ہے، گزشتہ 10 برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستانی معیشت کو 70 ارب کے قریب اور قدرتی آفات سے 3 برس کے دوران 10 ارب کا نقصان ہوا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت پاکستان کی آبادی 18 کروڑ سے زائد ہوچکی ہے جس میں سے 4 کروڑ کے قریب ہر قسم کے طالب علم ہیں جب کہ ملک کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث پاکستانی آبادی تیزی سے غربت کا شکار ہو رہی ہے۔
..........
/169