ابنا: غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ مہاری نام کے ایک ویران ہوٹل سے ایسی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں سے کچھ کے ہاتھ ان کی پشت پر بندھے ہوئے تھے۔یہ ہوٹل اس علاقے میں واقع ہے جو ان ہلاکتوں کے ممکنہ وقت سے پہلے سے قذافی مخالف دستوں کے قبضے میں تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثبوتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان لوگوں اسی ویران ہوٹل میں ہلاک کیا گیا تھا جہاں انہیں پہلے قیدی رکھا گیا تھا۔علاوہ ازیں اس ہوٹل کی دیواروں پر بھی ان گروپوں کے نام نمایاں طور پر لکھے ہیں جنہیں قذافی مخالف گروپوں کے طور پر جانا جاتا ہے اورانہیں اس علاقے پر کنٹرول حاصل تھا۔ مقامی لوگوں نے ہیومن رائٹ واچ کے حکام کو بتایا ہے کہ جن لوگوں کی یہ لاشیں ہیں وہ اسی علاقے کے رہنے والے تھے اوران میں سے ایک قذافی دور میں مقامی عہدیدار اورایک دوسرا قذافی کی فوج کا اہلکار تھا۔ہیومن رائٹس واچ قومی عبوری کونسل سے فوری طور پراجتماعی قتل کے اس واقعہ کی شفاف تحقیقات کرانے اور اس میں ملوث افرادکو قانون کے مطابق سزاء دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
..........
/169