24 اکتوبر 2011 - 20:30

کراچی…… سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی بدامنی ازخود نوٹس کے فیصلے کے بعد چند ہفتوں کی خاموشی کے بعد شہر میں ایک بار پھر بدامنی کی وارداتیں شروع ہوگئی ہیں۔

ابنا: کراچی میں رمضان المبارک کے دوران بدامنی کی خوف ناک لہر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔ جس پر سرکاری مشنری حرکت میں آگئی تھی اور رینجرز کو مزید اضافی اختیارات دئیے جانے، ایف سی کی نفری کی شہری علاقوں میں تعیناتی کے امن و امان بحال ہونا شروع ہوگیا تھا۔ رینجرز اور پولیس کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران متعدد ملزمان کی گرفتاریاں ہوئیں اور اسلحہ کی برآمدگی بھی ظاہر کی گئی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی بدامنی نوٹس کے ازخود کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں پراسرار سرگرمیوں کی اطلاعات ملنا شروع ہوگئی تھیں۔ جس کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں بھتے کی وصولی، اغواء اور قتل کی واردتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ یہ واقعات مصروف ترین کاروباری علاقوں، اولڈ سٹی ایریاز، لیاری، کورنگی ،ملیر، سرجانی ٹاون اور سہراب گوٹھ سمیت اکثر علاقوں میں یہ وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ مسلح ملزمان کی جانب سے نوجوانوں کے اغواء اور قتل کے علاوہ بھتے کی وصولی اور لوٹ مار کی منظم وارداتیں بھی دیکھنے میں آرہی ہیں۔ تازہ واقعات میں آج دوپہر تک ناظم آباد پاپوش نگر، صدر اور سرجانی ٹاوٴن سے چار افراد کی گولیاں لگی لاشیں ملیں جنہیں اغواء کے بعد قتل کیا گیا۔ جس پر شہری حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے قتل کی بیشتر وارداتوں کو ذاتی، خاندانی تنازعات کارنگ دیا جا رہا ہے۔  ...........

/169