ابنا: توقع ہے کہ گرتے ہوئے اس مواصلاتی سیارے کے زیادہ تر ٹکڑے راستے میں ہی جل کر خاک ہوجائیں گے۔ لیکن کم از کم تیس ٹکڑے280 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے ٹکرائیں گے۔ان میں سب سے بڑا ٹکڑا مواصلاتی سیارے کا عدسہ ہوگا۔ مواصلاتی سیارے کا رخ یورپ، افریقا اور آسٹریلیا کے براعظموں کی جانب نہیں۔زمینی فضا میں داخل ہوتے وقت امکان تھا کہ سیارہ چین میں گر سکتا ہے لیکن یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ زیادہ تر ماہرین کو امید ہے کہ یہ مواصلاتی سیارہ آبادی پر نہیں گرے گا۔ پچھلے ماہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا ایک مواصلاتی سیارہ جنوبی بحرالکاہل میں گرا تھا جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔
...........
/169