ابنا: کوئٹہ میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور شیعہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ کے انسانیت سوز واقعات کیخلاف جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مرد و خواتین ، بچوں اور بوڈھوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، مظاہرین نے پاکستان بالخصوص کوئٹہ میں عوام کو تحفظ فراہم کرنے میںناکامی پر حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کو زبردست تنقید کا ناشانہ بنایا ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حسین عباسی، علی عظیمی ، حسن خدایاری ، علی حسن ،داود حلیمی اور دیگر مقررین نے کہا کہ کوئٹہ میں انسانیت سوز واقعات رونماہورہے ہیں جن میں سیکٹروں ہزارہ مرد، خواتین ، بچے اور بوڑھوں کونشانہ بنایا گیا ہے اور آج تک کوئی قاتل گرفتار نہیں ہوا یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرے سے انصاف ختم ہو چکا ہے چند دہشتگردوں کو بے گناہ انسانوں کی جان سے کھیلنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے، مقررین نے کہا کہ جس معاشرے سے انصاف ختم ہوجائے وہاں کے حکمران ظالموں کی سرپرستی کریں وہاں امن قائم نہیں ہو سکتا ،بلوچستان میں حکمران اپنے مفادات کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچنا تک گوارا نہیں کرتے.۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں شیعیان علی تنہا نہیں، دنیا بھر کے مومنین ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہے انہوں نے مہذب دنیا سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا نوٹس لے اور کوئٹہ میںہزارہ مومنین کی جان و مال کو تحفظ فراہم کریں بعد ازاں ڈاکٹر الیگزینڈر منگسوتی کی قیادت میں وفد نے پاکستان اور افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ سے ملاقات کی اور انہیں یاداشت پیش کی...........
/169