ابنا: پارٹی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماؤں میاں محمد اظہر اور میاں محمودالرشید نے 30 اکتوبر کے جلسے میں رکاوٹیں ڈالنے پر پنجاب حکومت اور پی ایچ اے کیخلاف عدالت جانے سمیت تمام آپشنز استعمال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے مگر اسے کوئی ہماری کمزوری نہ سمجھے، آنے والا وقت پاکستان تحریک انصاف کا ہے، لاہور کے جلسے میں لاکھوں افراد شرکت کریں گے اور عوام کو جلسے میں شرکت کی دعوت دینے کیلئے لاہور کے مختلف علاقوں میں کیمپس لگائے جائیں گے۔ میاں محمد اظہر نے کہا کہ تحریک انصاف میں بہت جلد اہم سیاسی شخصیات شمولیت اختیار کرنگی اور اب قوم کو بے وقوف بنانے کا وقت گزر چکا ہے اور تخت لاہور کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہونیوالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ دونوں اندر سے ایک ہیں اور عوامی طاقت سے اس ملک سے کرپٹ اور مفاد پرست سیاستدانوں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دینگے اور آنیوالا وقت تحریک انصاف کا ہوگا۔ میاں محمود الرشید نے کہا کہ تحریک انصاف کے لاہور میں ہونے والے 30 اکتوبر کے جلسہ میں پنجاب حکومت مخالفانہ رویہ اپنا رہی ہے اور پی ایچ اے بھی حکومت کی ہدایت پر لاہور سے ہمارے تمام تشہیری بورڈز اتار رہی ہے اور پی ایچ اے نے تشہیری کمپنیوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر وہ تحریک انصاف کے بورڈز لگائے گی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کی لیز اور لا منسوخ کر دیئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے مگر کوئی اسے ہماری کمزوری نہ سمجھے اگر حکومت اور انتظامیہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی تو لاہور میں نہ صرف بھرپور احتجاج کرینگے بلکہ عدالت میں حکومت کے خلاف جانے کا آپشن بھی استعمال کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام رکاوٹوں کے باوجود تحریک انصاف کا 30 اکتوبر کو ہونیوالا جلسہ ہر صورت کامیاب ہو گا اور اس میں لاکھوں افراد شر یک ہونگے اور لاہور کے عوام کو اس جلسہ میں شرکت کی دعوت دینے کیلئے آئندہ ہفتے سے لاہور میں جلسوں اور کمیپ لگانے کا سلسلہ شروع کیا جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ووٹوں کے اندارج کیلئے الیکشن کمیشن انتہائی سست روی سے کام کر رہا ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ووٹوں کے 100 فیصد اندارج کیلئے حتمی تاریخ میں اضافہ کر دیا۔ اجلاس میں مرکزی نائب صدر اعجاز احمد چوہدری، پنجاب کی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر بھی موجود تھے۔ .....
/169