12 اکتوبر 2011 - 20:30

اطلاعات کے مطابق کرم ایجنسی کے قبائلی عمائدین نے صرف پاراچنار شہر میں امن معاہدہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں مثالی امن و امان قائم ہے جبکہ ان علاقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جہاں امن نہیں ہے اور نہتے انسانوں کو اغوا اور قتل کیا جاتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسی نے کئی بار امن معاہدوں کے اعلان اور عدم نفاذ کے باوجود ایک بار پھر امن معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور البتہ اس بار انھوں نے معاہدہ مری کے نفاذ کا اعلان بھی کیا ہے لیکن یہ نیا اعلان اس وقت متنازعہ بن جاتا ہے جب آپ دیکھتے ہیں کہ یہ معاہدہ صرف پاراچنار شہر میں نافذالعمل ہوگا اور بدامنی کا شکار علاقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اس اعلان میں علاقے کے شیعہ اور سنی عوام کو دو فریقوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ "حریف فرقوں" کے عمائدین نے تین سال قبل مری کے مقام پر ایک معاہدے پر دستخط کردیئے تھے جس کو اب تک نافذ نہیں کیا جاسکا تھا۔

اس اعلان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے کہ "حریف فرقوں یا rival sects" کی اصطلاح درست نہیں ہے اور اس علاقے میں فرقوں کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ علاقے سے باہر کی قوتوں کی جنگ ہے جو اس علاقے پر مسلط کی گئی ہے اور اس جنگ سے شیعہ اور سنی عوام کو شدید نقصانات پہنچے ہیں؛ یہ حقیقت بیان کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا ہے کہ حکومت اور اس نام نہاد گرینڈ جرگے نے ان تین برسوں کے دوران کئی بار اس معاہدے کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور پھر "تیسرے فریق" یعنی طالبان کے دہشت گردوں نے اس معاہدے کی تمام شقوں کو پامال کیا ہے اور حکومت اور گرینڈ جرگے کی طرف سے معاہدے کے تحفظ کے سرکاری اعلان کے باجود معاہدہ پامال کرنے والے فریق کے خلاف کوئی اقدام نہیں ہوا ہے اور سرکاری حکام دہشت گردوں سے علاقے کے مقتولین کی لاشوں کے ٹکڑے اپنی تحویل میں لے کر ان کے غمزدہ خاندانوں کے حوالے کرنے پر اکتفا کرتے رہے ہیں۔ اس میں شک نہيں ہے کہ تیسرا فریق بھی اس معاہدے کی پشت پر ہوگا لیکن اس کا یہاں کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ معاہدہ ابھی سے ناکام ہے۔

مذکورہ معاہدے کے نفاذ کی ڈیل پر فریقین کے 25 ، 25 نمائندوں نے دستخط کئے ہیں جبکہ اس معاہدے پر کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی شاہ (یا شہاب الدین شہاب) نے معمول کے مطابق ضامن کی حیثیت سے ایسے معاہدے پر ضامن پر دستخط کئے ہیں جس کے پر امن نفاذ کا نہ انہیں یقین ہے اور نہ جرگہ والوں کو۔

شہاب علی شاہ نے کرم ایجنسی کے عوام سے کہا ہے وہ زبانی اور اخلاقی لحاظ سے اس معاہدے پر عمل کریں اور یہ کہ یہ وہی معاہدہ ہے جس پر 2008 میں سنی اور شیعہ قبائل کے عما‏ئدین نے دستخط کئے تھے۔

مری معاہدے کے نفاذ کی اس ڈیل پر پاراچنار میں دستخط ہوئے ہیں اور پاراچـنار کے عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاہدے کا احترام کریں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ ڈیل پاراچنار کی پانچ سالہ ناکہ بندی اور پاراچنار – پشاور کی نام نہاد قومی شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں بالکل خاموش ہے جبکہ پاراچنار سے طالبان دہشت گردوں کے انخلاء کے بعد اس علاقے میں جو امن قائم ہے وہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا اور جن علاقوں میں یہ معاہدہ نافذ العمل نہیں ہے امن و امان کے نقاد کی ان ہی علاقوں کو زیادہ ضرورت ہے اور پھر یہ خدشہ بھی پیدا ہوا ہے کہ یہ ڈیل کہیں دہشت گردوں کو دوبارہ پاراچنار کے پر امن علاقے میں واپس لوٹانے کی سازش تو نہیں ہے؟!

پیر کے روز ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت کرتے ہوئے فریقین کے عمائدین نے کہا ہے کہ اس اپریل 2007 سے بند کئے جانے والے راستے مستقل طور پر کھولنے کا مسئلہ اس ڈیل میں شامل نہیں ہے۔

ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت کرتے ہوئے جرگہ میں سینئرسنی رکن جرگہ عطاء اللہ خان

نے کہا کہ "نو نکاتی معاہدہ صرف پاراچنار شہر میں نافذ العمل ہوگا اور یہ علاقے کے دوسرے حصوں میں قابل نفاذ نہيں ہے"۔

انھوں نے کہا: البتہ تمام قبائلیوں کو <صرف پاراچنار میں داخلے کے وقت معاہدے کی پابندی کرنا ہوگی>۔

عطاء اللہ خان کے موقف سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ پاراچنار پر دہشت گردوں کے دوبارہ تسلط کے لئے بنیاد بنایا جارہا ہے، اور اس کے سائے میں یہاں سے بے دخل دوسرے فریق کے افراد کو دوبارہ لایا جائے گا، موجودہ امن غارت کرنے کے اسباب ایک بار پھر غارت ہوجائیں گے، مظلوم فریق کو ریلیف دینے کے امکانات ختم ہوجائيں گے اور جارح لوگوں کو مزید کھلی فضا میسر آئے گی کیونکہ اس ناقص ڈیل میں نہ تو بے دخل شیعہ افراد کو متعلقہ علاقوں میں دوبارہ بسانے کا کوئی پروگرام ہے اور نہ ہی اہل تشیع کو پانچ سالہ ظالمانہ محاصرے سے نکالنے کا کوئی منصوبہ ہے۔

عطاء اللہ نے یہ بھی نہیں کہا کہ ڈیل کے کئی مراحل ہیں اور اگلے مراحل میں دوسرے معاملے بھی ٹھیک کئے جائیں گے۔

دریں اثناء شیعہ عمائدین نے بھی عطاء اللہ کے دعوے کی تصدیق کی ہے۔

اکسپریس ٹربیون نے پوچھا تھا کہ "کیا اس ڈیل کے دوران پاراچنار – ٹل شاہراہ دوبارہ کھولنے کے مسئلے پر بحث نہیں ہوئی؟" جس کے جواب میں انجمن حسینیہ پاراچنار کے "ترجمان" خادم حسین نے کہا:  ہم اس موضوع کو مرحلہ وار انداز سے آگے بڑھانے کے درپے ہیں اور "پاراچنار – ٹل شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کا مسئلہ اگلے مرحلے میں زیر بحث آئے گا!"۔

اتوار کے روز پاراچنار میں واقع "گورنر کاٹیج" میں ہونے والے جرگے کے دوران انجمن حسینیہ کے سیکریٹری ملک حامد حسین اور پروفیسر جمیل کاظمی نے شیعہ وفد کی قیادت کی۔

اس ڈیل کے میں 5 سال سے ظلم کی چکی میں پسنے والے عوام کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ ان سب مسائل کے باعث و بانی لوگوں کی پذیرائی کریں اور اس ڈیل میں سب سے بڑا مسئلہ پاراچنار شہر کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کے بعد بے دخل ہونے والے افراد کی بحالی اور باقی مسائل کو "چھوٹے مسائل" کا نام دیا گیا ہے دیکھئے:

"اتوار کی مفاہمت کے مطابق سینکڑوں سنی خاندان جو جنگ کی وجہ سے پاراچنار سے بے دخل ہوگئے تھے، کو ان کے گھروں میں بسایا جائے گا اور فریقین ایک کمیٹی تشکیل دیں گے جو "چھوٹے مسائل" حل کرے گی"۔

اس ڈیل میں یہ نہیں کہا جاتا کہ صدہ سے لے کر ہنگو تک کی نام نہاد قومی شاہراہ پر قابض طالبان کو تو ہتھیار اٹھا کر فوج سے لے کر نہتے مسافروں تک پر حملوں کی اجازت ہے لیکن "پر امن پاراچنار میں امن قائم کرنے کے لئے" ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی ہوگی۔ ڈیل میں کہا گیا ہے:

٭ پاراچنار میں ہتھیاروں کی نمائش کرنے والے فرد پر دس لاکھ روپے کا جرمانہ ہوگا۔

ڈیل میں قبائل کا رواج نظر انداز کیا گیا ہے اور ان لوگوں کو بچانے کا بھی پورا پورا انتظام کیا گیا ہے جنہوں نے گذشتہ پانچ برسوں سے اب تک خیبر، پشاور، درہ آدم خیل، کوہاٹ، ٹل، ہنگو، توت کس، تور غر، اوچت، مخی زئی، پیر قیوم، صدہ، خار کلئے، افغانستان، بوشہرہ، شورک، افغانستان وغیرہ میں حملے کرکے بچوں اور خواتین سمیت سینکڑوں نہتے افراد کو ذبح کیا اور ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور پاراچنار کے عوام کو کسی قسم کی امداد نہ پہنچنے دی چنانچہ ڈیل کی ایک شق یہ ہے کہ:

٭ کوئی بھی شخص سابقہ قتل کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کرے گا۔

آگے دیکھئے:

٭  مقامی انتظامیہ اس شق کو پامال کرنے والے افراد کے خلاف اقدام کرے گی جن کو اپنی برادری کو بھی 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

1976 سے لے کر اب تک ہونے والی تمام جنگیں طوری قوم کی جانب سے جاجی قوم کو دی گئی مسجد سے شروع ہوئی ہیں اور اس مسجد کے اونچے منار کو ہمیشہ مورچے کے ط