ابنا: انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈیرہ مراد جمالی میں منعقدہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ، علامہ مقصود ڈومکی نے ظلم کے خلاف موثر انداز میں آواز بلند کرنے پر سید ناصر علی شاہ کو خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ملت جعفریہ کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے.، معصوم انسانوں کا قتل عام روز کا معمول بن چکا ہیاور پورے بلوچستان میں دہشت گردوں نے خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے، ان حالات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی آئینی و اخلاقی جواز نہیں ہے ، اگر وہ عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو انہیں از خود اقتدار سے اقتدار سے الگ ہو جا نا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ قتل و غارت اور خونریزی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ سفاک قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہڑے میں کھڑا کیا جائے اور عدالتیں دہشت گردوں کو رہا کرنے کی بجائے انہیں سرعام پھانسی دیں پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین تحصیل ڈیرہ مراد جمالی کے رہنما سید عبدالقادر شاہ : الہی بخش کھیازئی سید مختار شاہ مولانا تجمل عباس جعفری بھی موجود تھے اس موقعہ پر جمعیت علمائے پاکستان کے ضلعی صدر رستم علی نورانی اور مولانا نواب دین ڈومکی نے بھی علامہ مقصود علی ڈومکی سے ملاقات کی۔........../169
10 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 271239
مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ حکومتی جماعت کے رکن قومی اسمبلی سید ناصر علی شاہ نے بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی اور شیعیان علی کے قتل عام کے خلاف پالیمنٹ کے باہردھرنا دے کر امن و امان کے حوالے سے حکوتی دعووں کا بھرم کھول دیا,اس وقت بلوچستان بالخصوص کوئٹہ کی سر زمیں ملت جعفریہ کی قتل گاہ بنی ہوئی، لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر لائنوں میں کھڑا کر کے گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا اور آج تک کسی ایک ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔