9 اکتوبر 2011 - 20:30

بحريني سيکوريٹي فورس کي جانب سے مظاہرين کي سرکوبي بدستور جاري ہے-

ابنا: پريس ٹي وي کي رپورٹ کے مطابق بحرين ميں مختلف علاقوں ميں حکومت مخالف مظاہرے اور مظاہرين کي سرکوبي جاري ہے اور سيکوريٹي فورسس نے سعودي فوجيوں کي مدد سے مختلف علاقوں ميں ہونے والے مظاہروں پر پر تشدد کارروائي کي -يہ ايسے حالات ميں ہے کہ بحرين ميں حکومت مخالف عوام نے دار الحکومت منامہ ميں وسيع دھرنا دے کر بھوک ہڑتال کي اورسياسي قيديوں کے ساتھ يکجہتي کا اعلان کيا-

در ايں اثنا سيکوريٹي فورس نے جنوب مشرقي بحرين ميں واقع مالکيہ قصبے ميں ايک خاتون پر حملہ کيا -

ياد رہے کہ فروري سے بحرين ميں عوامي مظاہرے شروع ہوئے جو اب تک جاري ہيں -

مظاہرين آل خليفہ کي آمرانہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہيں ليکن امريکا کي حمايت کي وجہ سے بحرين کي شاہي حکومت نہ صرف يہ کہ مظاہرين کے مطالبوں کو تسليم کرنے پر تيار نہيں ہے بلکہ اس نے چودہ مارچ دو ہزار گيارہ سے سعودي عرب اور متحدہ امارات کے فوجيوں کے تعاون سے پر امن مظاہرين کي سرکوبي ميں شدت پيدا کي ہے -

با خبر ذرائع کے مطابق بحرين ميں پر امن مظاہرين کي سرکوبي کے دوران اب تک سو سے زائد افراد جاں بحق، ايک ہزار سے زائد زخمي اور سيکڑوں لوگ گرفتار ہوئے ہيں-

.............

/169