ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے اعلیٰ اختیاراتی ادارے شوریٰ عالی کا اجلاس علامہ شیخ محمد حسن صلاح الدین کی زیر صدارت العارف ہائوس بارہ کہو میں منعقد ہوا جس میں ،علامہ محمد امین شہیدی، علامہ غلام شبیر بخاری، علامہ سید حسن ظفر نقوی، علامہ مظہر حسین کاظمی۔ علامہ حسنین عباس گردیزی، علامہ محمد اقبال بہشتی، علامہ حافظ حسین نوری، علامہ سید حیدر عباس عابدی،علامہ عبدالخالق اسدی، علامہ مقصود علی ڈومکی، علامہ مختار احمد امامی ، علامہ شیخ نیر عباس مصطفوی، علامہ سید تصور حسین جوادی،سید ناصر عباس شیرازی، زاہد علی کاچو، سید آل محمد جعفری اور سرفراز حسین الحسینی نے شرکت کی۔
اجلاس میں شوریٰ عالی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں اور تجاویز پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے اجلاس میں سالانہ کارگردگی رپورٹ پیش کی اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے اراکین شوریٰ عالی سے تجاویز و آراء حاصل کی گئیں ، علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی نظام مالیات کی آڈٹ رپورٹ پیش کی ، اراکین شوریٰ عالی نے آڈٹ رپورٹ کاناقدانہ جائزہ لینے کے بعد ، شعبہ مالیات کو تنظیم کی بنیادی اکائی قرار دیتے ہوئے اسے مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ، اجلاس میں مرکزی سیکرٹری مالیات کو تعمیر ملت فنڈ پروجیکٹ میں اصلاحات کرنے کی ہدایت کی گئی اور تاکید کی گئی کہ آئندہ چند ہفتوں میں تعمیر ملت فنڈ کی فزیبلٹی رپورٹ مرتب کی جائے ۔
اجلاس میں ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کوئٹہ میں سانحہ مستونگ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ، اور اس حوالے سے ملک بھر میں احتجاج کی کال دینے، ملک کے بڑے بڑے شہروں میں شہدائے مستونگ کے چہلم کے اجتماعات منعقد کرنے اور حکومت بلوچستان و مرکزی حکومت سے رابطے کرنے کی تجاویز زیر بحث لائی گئیں اور ایم ڈبلیو ایم کی مرکزی کابینہ کو ملک کے بڑے بڑے شہروں میں احتجاج و اجتماعات کا پروگرام تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔
اجلاس میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مختار احمد امامی نے اراکین شوریٰ عالی کی توجہ سندھ میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے سبب پیدا ہونے والی صوت حال کی جانب مبذول کرائی اور استدعا کی کہ متاثرین کی امداد و بحالی کے لیے ملک گیر تحریک چلائی جائے ، اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ امین شہیدی نے بتایا کہ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے عنقریب دو سو گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے ، اس منصوبہ کے تحت مساجد و امام بارگاہیں بھی تعمیر کی جائیں گی ، اجلاس میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کو متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ اجلاس میں محصورین پارا چنار کی امداد کے لیے امدادی امن کاروان بھجوانے اور مرکزی کنونشن کے شاندار انعقاد پر مرکزی کابینہ کے اراکین اور منتظمین کنونشن کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ شرکائے اجلاس نے اسیران جعفریہ کی رہائی کے لیے مربوط انداز میں کام نہ ہونے پر بے چینی کا اظہار کیا اور امام سجاد فائونڈیشن کو فعال بنانے کے لیے مرکزی کابینہ کو ہدایات جاری کی گئیں ، اجلاس میں ملک بھر میں تنظیم سازی اور یونٹ سازی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور ہدائت کی گئی کہ آیندہ اجلاس میں تمام اضلاع اوریونٹوں کے تنظیمی ڈھانچوں کی مفصل رپورت پیش کی جائے ، اجلاس میں ملک کی اہم مذہبی شخصیات کو مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کی دعوت دینے کے لیے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی اور سیکرٹری تنظیم سازی علامہ شبیر بخاری پر مشتمل تین رکنی کمٹی تشکیل دی گئی اور آئی ایس او کے مرکزی صدر کو شوریٰ عالی کے اجلاسوں میں اعزاز ی طور پر مدعو کرنے کی بھی منظوری دی گئی ۔


............
/169