2 اکتوبر 2011 - 20:30

تہران ميں منعقدہ ملت فلسطين کي تحريک انتفاضہ کي حمايت کے زيرعنوان پانچويں بين الاقوامي کانفرنس اتوار کي رات ايک بيان جاري کرکے ختم ہوگئي کانفرنس ميں دنيا کے پچاس سے زائد ملکوں کے اعلي رتبہ پارليماني وفود ، سياسي حکام و دانشوروں نے شرکت کي .

ابنا: تہران ميں منعقدہ ملت فلسطين کي تحريک انتفاضہ کي حمايت کے زير عنوان پانچويں بين الاقوامي کانفرنس کے شرکاء نے کانفرنس ميں فلسطين کے بارے ميں قائدانقلاب اسلامي کے خطاب کو انتہائي اہم اور تاريخي قرارديا کانفرنس کے شرکاء نے اپنے اختتامي بيان ميں فلسطيني عوام کي تحريک مزاحمت کي حفاظت اور اس کي تقويت کے بارے ميں قائد انقلاب اسلامي کے موقف کي تعريف کي اور ان کے خطاب کانفرنس کے چارٹر کے طور پر اپنے اختتامي بيان ميں درج کرتے ہوئے اس بات پر زورديا کہ آزاد فلسطيني مملکت پوري سرزمين فلسطين پر محيط ہوني چاہئے جس کا دارالحکومت بيت المقدس ہو اس بيان ميں اسي طرح کہا گيا ہے کہ تمام مسلمانوں عرب اقوام اور دنيا کے آزاد منش انسانوں کو چاہئے کہ وہ فلسطيني عوام کے قانوني اور ملي اور تاريخي حقوق کي بازيابي کے لئے اپني کوشش کريں تاکہ سرزمين فلسطين صہيونيوں کے چنگل سے آزاد ہوسکے کانفرنس کے اختتامي بيان ميں شرکاء نے اس بات پر بھي زورديا کہ مسئلہ فلسطين مشرق وسطي کے مسائل ميں سب سے مرکزي موضوع ہے اور عالم اسلام و عرب دنيا کے ترجيحي مسائل ميں سے ايک ہے اور سرزمين فلسطين کي آزادي تمام حريت پسند انسانوں کے لئے خصوصي اہميت کي حامل ہے اس بيان ميں اسي طرح مشرق وسطي ميں جاري حاليہ تبديليوں اور اپنے حقوق کي بازيابي کے لئے مختلف ملکوں ميں جاري عوامي تحريکوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گيا ہے کہ موجودہ صورتحال سرزمين فلسطين کي آزادي کے لئے بہترين موقع ثابت ہوسکتي ہے. اس بيان ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ صہيوني ریاست کے لئے امريکا کي ہمہ جانبہ اور غيرمنطقي حمايت جس ميں مالي اسلحہ جاتي اور سياسي سبھي طرح کي حمايت شامل ہے قابل مذمت ہے اور عالمي اداروں ميں اسرائيل کے لئے امريکي حمايت سے يہ بات ثابت ہے کہ ان ميں آپس ميں ہرسطح کا رابطہ ہے..............

/169